انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 561

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده نو جوان کو جس کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ وہ جماعت کو تباہ کر دے گا خلیفہ بنا کر اور اُس کے ذریعہ سے جماعت کو حیرت انگیز ترقی دے کر یہ ظاہر نہیں کر دیا کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا خلیفہ نہیں بلکہ میرا بنایا ہوا خلیفہ ہے اور کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔(۳) تیسری علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وَلْيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي از تضى لَهُمْ یعنی جو علوم دینیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن پر ظاہر ہونگے انہیں خدا د نیا میں قائم کرے گا اور کوئی اُن کو مٹانے پر قادر نہ ہو سکے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی وجہ سے صحابہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور اس میں بھی کوئی قبہ نہیں کہ صحابہ نے جو حدیثیں جمع کیں وہ بجائے خود اتنا بڑا کارنامہ ہے جو اُن کے درجہ کو عام لوگوں کے وہم و گمان سے بھی بلند تر کر دیتا ہے۔پھر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول قرآن کریم کے کامل ماہر اور اُس کے عاشق تھے اور آپ کے احسانات جماعت احمدیہ پر بہت بڑے ہیں لیکن یہ سب وہ تھے جن میں سے کسی ایک پر بھی جاہل ہونے کا اعتراض نہیں کیا گیا اس لئے خدا تعالیٰ کی صفت علیم جس شان اور جس جاہ و جلال کے ساتھ میرے ذریعہ جلوہ گر ہوئی اُس کی مثال مجھے خلفاء کے زمرہ میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔میں وہ تھا جسے گل کا بچہ کہا جاتا تھا، میں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جاتا تھا مگر عہدۂ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہ اب قیامت تک اُمتِ مسلمہ اس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں کو پڑھے اور اُن سے فائدہ اٹھائے۔وہ کونسا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔مسئلہ نبوت ، مسئلہ کفر، مسئلہ خلافت ، مسئلہ تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف، اسلامی اقتصادیات، اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا مجھے خدا نے اس خدمت دین کی توفیق دی اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی ان مضامین کے متعلق قرآن کے معارف کھولے جن کو آج دوست دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے، مجھے لاکھ بُرا بھلا کہے جو شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا اُسے میرا خوشہ چیں ہونا پڑے گا اور وہ میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جا سکے گا چاہے پیغامی ہوں یا مصری۔ان کی اولادیں جب بھی دین کی خدمت کا ارادہ کریں گی وہ اس بات پر مجبور ہونگی کہ میری کتابوں کو پڑھیں اور اُن سے فائدہ اٹھا ئیں بلکہ میں بغیر فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں سب خلفاء سے زیادہ مواد میرے ذریعہ سے جمع ہوا ہے اور ہو رہا