انوارالعلوم (جلد 15) — Page 560
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اندرونی اعداء کا خوف بھی اس کے ساتھ شامل ہو گیا۔پھر حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی حکیم الامت اور اور بہت سے القاب سے ملقب کیا جاتا تھا مگر میرے متعلق سالہا سال سے جماعت میں یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ اگر اس بچہ کے ہاتھ میں جماعت کی باگ ڈور آ گئی تو جماعت تباہ ہو جائے گی۔پھر میں نہ عربی کا عالم تھا، نہ انگریزی کا عالم تھا، نہ ایسا فن جانتا تھا جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھر ا سکے، نہ جماعت میں مجھے کوئی عہدہ اور رسوخ حاصل تھا تمام اختیارات مولوی محمد علی صاحب کو حاصل تھے اور وہ جس طرح چاہتے تھے کرتے تھے۔ایسے حالات میں ایک ایسا شخص جس کو عمر کے لحاظ سے بچہ کہا جاتا تھا ، جس کو علم کے لحاظ سے جاہل کہا جاتا تھا، جسے انجمن میں کوئی اختیار حاصل نہیں تھا ، جس کے ہاتھ میں کوئی روپیہ نہیں تھا، اُس کی مخالفت میں وہ لوگ کھڑے ہوئے جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں تھیں، وہ لوگ کھڑے ہوئے جن کے ہاتھوں میں قوم کا تمام روپیہ تھا، وہ لوگ کھڑے ہوئے جو ایک عرصہ دراز سے بہت بڑی عزتوں کے مالک سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے دعوی کیا کہ ہم اس بچہ کو خلیفہ نہیں بننے دیں گے مگر خدا نے اُن کو ناکام و نامراد کیا اور وہی جسے جاہل کہا جاتا تھا، جسے کو دن قرار دیا جاتا تھا اور جس کے متعلق یہ عَلَی الْإغلان کہا جاتا تھا کہ وہ جماعت کو تباہ کر دے گا ، خدا تعالیٰ نے اُسی کو خلافت کے مقام کیلئے منتخب کیا۔یہ لوگ اپنی امیدوں پر پانی پھرتا دیکھ کر یہاں سے الگ ہو گئے اور انہوں نے کہا جماعت نے بے وقوفی کی جو اُس نے ایک نادان اور احمق بچہ کو خلیفہ بنا لیا تھوڑے دنوں میں ہی اُسے اپنی حماقت کا خمیازہ نظر آ جائے گا۔جماعت تباہ ہو جائے گی ، روپیہ آنا بند ہو جائے گا ، تمام عزت اور نیک نامی خاک میں مل جائے گی اور وہ عروج جو سلسلہ کو اب تک حاصل ہوا ہے اس نادان بچے کی وجہ سے ضائع ہو جائیگا مگر ہوتا کیا ہے؟ وہی بچہ جب خدا کی طرف سے خلافت کے تخت پر بیٹھتا ہے تو جس طرح شیر بکریوں پر حملہ کرتا ہے اُسی طرح خدا کا یہ شیر دنیا پر حملہ آور ہوا اور اس نے ایک یہاں سے اور ایک وہاں سے، ایک مشرق سے اور ایک مغرب سے ، ایک شمال سے اور ایک جنوب سے بھیڑیں اور بکریاں پکڑ پکڑ کر خدا کے مسیح کی قربان گاہ پر چڑھا دیں یہاں تک کہ آج اس سٹیج پر اس وقت سے زیادہ لوگ موجود ہیں جتنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے آخری سال جلسہ سالانہ پر آئے تھے۔جس کی آنکھیں دیکھتی ہوں وہ دیکھے اور جس کے کان سنتے ہوں وہ سنے کہ کیا خدا کے فضل نے ان تمام اعتراضات کو باطل نہیں کر دیا جو مجھ پر کئے جاتے تھے۔اور کیا اُس نے اُسی چھپیں سالہ