انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 558

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده پٹنیاں دیں کہ آخر اسے ماننا پڑا کہ قرآن کے علاوہ حدیثیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔اتفاق ایسا ہوا کہ ادھر وہ ڈینگیں مار رہے تھے اور اُدھر میاں نظام الدین صاحب اُن کے سر پر جا پہنچے اور کہنے لگے بس اس بحث مباحثہ کو ایک طرف رکھیں میں قادیان گیا تھا اور میں حضرت مرزا صاحب کو منوا آیا ہوں کہ اگر میں قرآن سے دس آیتیں ایسی نکال کر لے آؤں جن سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو تو وہ اپنے عقیدہ کو ترک کر دیں گے اس لئے آپ جلدی کریں اور مجھے قرآن سے ایسی دس آیات نکال کر دے دیں۔میں ابھی اس جھگڑے کا فیصلہ کئے دیتا ہوں اور خود مرزا صاحب کی زبان سے یہ اقرار کر والیتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو ایسا رگیدا کہ وہ میرے مقابلہ میں شکست کھانے پر مجبور ہو گیا انہوں نے جب میاں نظام الدین صاحب کی یہ بات سنی تو اُن کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور وہ بڑے غصہ سے کہنے لگے تجھے کس جاہل نے کہا تھا کہ تو مرزا صاحب کے پاس جائے۔میں دو مہینے جھگڑ جھگڑ کر نورالدین کو حدیث کی طرف لایا تھا تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا۔وہ آدمی تھے نیک ، انہوں نے جب یہ سنا تو وہ حیرت و استعجاب سے تھوڑی دیر تو بالکل خاموش کھڑے رہے اور پھر مولوی صاحب سے مخاطب ہو کر کہنے لگے اچھا مولوی صاحب اگر قرآن میں حیات مسیح کا کوئی ثبوت نہیں تو پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی میں ہوں اور یہ کہ کر وہاں سے چلے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہو گئے۔اب دیکھ لو با وجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس حقیقت کو کھولا تھا کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں اور باوجود اس کے کہ آپ نے قرآن واحادیث سے اس مسئلے کو مدلل طور پر ثابت کر دیا تھا آپ نے فرمایا کہ اگر ایک آیت بھی اس کے خلاف لے آؤ تو میں اپنا عقیدہ ترک کرنے کیلئے تیار ہوں۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نَعُوذُ بِاللهِ اس کے متعلق کامل یقین حاصل نہیں تھا اور آپ کا خیال تھا کہ شاید اس کے خلاف بھی کوئی آیت ہو۔اگر کوئی ایسا کہے تو وہ اول درجے کا جاہل ہوگا کیونکہ آپ نے جب یہ کہا کہ اگر ایک آیت بھی میرے پاس ایسی نکال کر لے آئیں جس سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو تو میں اپنے عقیدہ کو ترک کر دوں گا تو یہ قرآن مجید کی عظمت اور اُس کی بزرگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ قرآن