انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 553

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده عمر بن الخطاب ہوتا۔اس کے یہی معنی ہیں کہ عمر میرے بعد امام ہونے والے ہیں۔اگر میرے معاً بعد نبوت کا اجراء اللہ تعالیٰ نے کرنا ہوتا تو عمر بھی نبی ہوتے مگر اب وہ امام تو ہونگے مگر نبی نہ ہونگے۔ایک دوسری حدیث بھی اس پر روشنی ڈالتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جنگ پر گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے قائم مقام بنا گئے۔پیچھے صرف منافق ہی منافق رہ گئے تھے۔اس وجہ سے وہ گھبرا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ مجھے بھی لے چلیں۔آپ نے تسلی دی اور فرمایا۔اَلا ترضى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُؤسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِی ۵۵ یعنی (۱) اے علی تمہیں مجھ سے ہارون اور موسیٰ کی نسبت حاصل ہے۔ایک دن ہارون کی طرح تم بھی میرے خلیفہ ہو گے (۲) لیکن باوجود اس نسبت کے تم نبی نہ ہو گے۔اس میں ایک ہی وقت میں نبی سے مشابہت بھی دے دی اور نبوت سے خالی بھی بتا دیا۔پس جس طرح علی ہارون کے مشابہ ہو سکتے ہیں چاروں خلفاء چار دوسرے نبیوں کے بھی مشابہ ہو سکتے ہیں۔اس حدیث سے علاوہ اس کے کہ یہ ثبوت ملتا ہے کہ خلفاء نبیوں کے مشابہ قرار دیئے جاسکتے ہیں حضرت علیؓ کے زمانہ کے فتنہ پر بھی روشنی پڑتی ہے اور اس میں یہ پیشگوئی نظر آتی ہے کہ جس طرح حضرت ہارون کے زمانہ میں فساد ہو ۱۴ حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی فساد ہوگا اور لوگ حضرت علی پر الزام لگائیں گے لیکن وہ الزام اُسی طرح غلط ہونگے جس طرح ہارون پر یہ اعتراض غلط ہے کہ انہوں نے شرک کیا۔بہر حال حضرت علی کا طریق حضرت ہارون کے مشابہ ہوگا کہ تفرقہ کے ڈر سے کسی قدر نرمی کریں گے (جیسا کہ صفین کے موقع پر تحکیم کو تسلیم کر کے انہوں نے کیا ) صلى الله اس کے بعد میں خلافت کے بارہ میں رسول کریم میلے کا ایک ارشاد حدیثوں میں سے صرف ایک حدیث بطور مثال خلافت کے بارہ میں پیش کر دیتا ہوں کیونکہ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَا مِنْ نَّبِيِّ إِلَّا تَبِعَتُهُ خِلافَةٌ ٥٦ یعنی کوئی نبی نہیں کہ اس کے بعد خلافت نہ ہوئی ہو۔اس عام فیصلہ کے بعد خلافت کا انکار در حقیقت