انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 535

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اختلافات کے اگر آپ کی مشابہت میں فرق نہیں آتا تو اگر پہلوں کی خلافت سے جزوی امور میں خلفائے اسلام مختلف ہوں تو اس میں کیا حرج ہے۔درحقیقت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے رسول کریم ﷺ کی مشابہت صرف ان معنوں میں ہے کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو ایک شریعت کی کتاب ملی جو اپنے زمانہ کی ضروریات کے لحاظ سے تمام مضامین پر حاوی اور کامل تھی اسی طرح رسول کریم اللہ کو ایک شریعت کی کتاب ملی جو قیامت تک کی ضروریات کیلئے تمام مضامین پر حاوی اور کامل ہے گو تو رات سے وہ بہر حال کئی درجے افضل اور اعلیٰ ہے۔پھر جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ کو اللہ تعالیٰ ان کی وفات کے بعد اپنے انبیاء کے ذریعہ چلاتا رہا اسی طرح امت محمدیہ میں جب بھی کوئی خرابی پیدا ہوگی اللہ تعالیٰ ایسے لوگ کھڑا کرتار ہے گا جو ان خرابیوں کی اصلاح کریں گے۔اسی طرح اس مشابہت کے ذریعے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تیرہ سو سال بعد ایک مسیح آیا اسی طرح اُمتِ محمدیہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال بعد مسیح موعود آئے گا۔یہ مقصد نہیں تھا کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک خاص زمانہ اور ایک خاص قوم کیلئے تھے اسی طرح رسول کریم ﷺ کی رسالت بھی کسی خاص زمانہ یا خاص قوم کیلئے مخصوص ہوگی۔پس اگر پہلوں کی خلافت سے خلفائے راشدین کی بعض باتوں میں مشابہت ہو تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی مشابہت ثابت ہو گئی۔یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہر بات میں پہلوں سے ان کی مشابہت دیکھی جائے۔اصل امر تو یہ ہے کہ جس طرح ان کی قوم کو ان کی وفات کے بعد سنبھالنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے بعض وجود کھڑے کئے اسی طرح بتایا گیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ ایسے وجود کھڑے کرے گا جو آپ کی اُمت کو سنبھال لیں گے اور یہ مقصد بہ نسبت پہلے خلفاء کے رسول کریم ﷺ کے خلفاء نے زیادہ پورا کیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام نبی تھے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قائم مقام نبی تھے، اسی طرح اور انبیاء جب وفات پا جاتے تو ان کے کام کو جاری رکھنے کیلئے انبیاء ہی ان کے جانشین مقرر کئے جاتے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ پہلے انبیاء کے ذریعہ جو تمکین دین ہوئی وہ رسول کریم ﷺ کے خلفاء کے ذریعہ نہیں ہوئی۔اگر بصیرت اور شعور کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا جائے تو اقرار کرنا پڑے گا کہ تمکین دین کے سلسلہ میں یوشع اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب وہ کام نہیں کر سکے جو ابو بکڑا اور عمر اور عثمان اور علی نے کیا۔نادان انسان کہے گا کہ تم نے نبیوں کی ہتک کی مگر اس میں بہتک کی کوئی