انوارالعلوم (جلد 15) — Page 532
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده تھی وہ میں نے کہہ دی ہے اب آپ کی جو مرضی ہو مجھے کہیں۔چنانچہ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں بیٹھ گیا اور تھوڑے ہی دن گزرنے کے بعد وفات پا گیا۔یہ کتنی زبردست شہادت اس بات کی ہے کہ یزید کی خلافت پر دوسرے لوگوں کی رضا تو الگ رہی خود اس کا اپنا بیٹا بھی متفق نہ تھا۔یہ نہیں کہ بیٹے نے کسی لالچ کی وجہ سے ایسا کیا ہو۔یہ بھی نہیں کہ اس نے کسی مخالفت کے ڈر سے ایسا کیا ہو بلکہ اس نے اپنے دل میں سنجیدگی کے ساتھ غور اور فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ میرے دادا سے علی کا حق زیادہ تھا اور میرے باپ سے حسن حسین کا۔اور میں اس بوجھ کو اُٹھانے کیلئے تیار نہیں ہوں۔پس معاویہ کا یزید کو مقرر کرنا کوئی انتخاب نہیں کہلا سکتا۔آیت استخلاف کے متعلق حضرت مسیح تیسرا جواب احمدیوں کیلئے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تشریح والسلام نے اس آیت کے معنی کرتے ہوئے ستر الخلافہ میں تحریر فرمایا ہے کہ اِنَّ اللهَ قَدْ وَعَدَ فِي هَذِهِ الآيَاتِ لِلْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَتِ أَنَّهُ سَيَسْتَخْلِفَنَّ بَعْضَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُمْ فَضْلًا وَرَحْمَةً ١٢ اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور عورتوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ان میں سے بعض کو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ خلیفہ بنائے گا۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَتَهُمْ في الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ میں ساری قوم مراد نہیں بلکہ بعض افرادِ امت مراد ہیں تو کم از کم کوئی احمدی یہ معنی نہیں کر سکتا کہ یہاں ساری قوم مراد ہے۔چوتھا جواب بھی احمدیوں کیلئے ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح خلافتِ محمدیہ کا استنباط موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا اس آیت سے اپنی خلافت محمدیہ کا استنباط کیا ہے اور اس وعدہ میں خلافتِ نبوت بھی شامل کی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ خلافت نبوت سے ساری قوم مراد نہیں ہو سکتی بلکہ بعض افراد ہی ہو سکتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے جہاں بادشاہت کا ذکر کیا ہے وہاں تو یہ فرمایا ہے کہ جَعَلَكُمْ مُّلُوعًا اس نے تم کو بادشاہ بنایا مگر جب نبوت کا ذکر کیا تو جَعَلَ فِيكُمُ انْبِيَاءَ فرمایا۔یعنی اس نے تم میں انبیاء مبعوث فرمائے اور اس فرق کی وجہ یہی ہے کہ یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا نے فلاں قوم کو بادشاہ بنایا مگر یہ