انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 530

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده انتخاب نہیں کہلا سکتا اور نہ اس قسم کا مشورہ مشورہ کہلا سکتا ہے۔مشورہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب لوگ آزاد ہوں اور ہر ایک کو اجازت ہو کہ وہ بختی بالطبع ہو کر جس کا نام چاہے پیش کرے۔پس اول تو معاویہ خود خلیفہ نہ تھے بلکہ بادشاہ تھے۔دوسرے انہوں نے بادشاہ ہونے کی حالت میں اپنے بیٹے کی خلافت کا لوگوں کے سامنے معاملہ پیش کیا اور یہ ہرگز کوئی مشورہ یا انتخاب نہیں کہلا سکتا۔باپ کا اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے تجویز پھر باپ کا بیٹے کو خلافت کیلئے پیش کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ حقیقی کرنا سنتِ صحابہ کے خلاف ہے انتخاب نہیں تھا کیونکہ باپ کا اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے پیش کرنا سنت صحابہ کے خلاف ہے۔حضرت عمرؓ کی وفات کے قریب آپ کے پاس لوگوں کے کئی وفود گئے اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ آپ کے بعد خلافت کا سب سے زیادہ اہل آپ کا بیٹا عبداللہ ہے آپ اسے خلیفہ مقرر کر جائیں۔مگر آپ نے فرما یا مسلمانوں کی گردنیں ایک لمبے عرصہ تک ہمارے خاندان کے آگے جھکی رہی ہیں۔اب میں چاہتا ہوں کہ یہ نعمت کسی اور کو ملے۔" اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد لوگ آپ کے بیٹے عبداللہ کو خلافت کیلئے منتخب کرتے تو یہ اور بات ہوتی مگر یہ جائز نہیں تھا کہ حضرت عمر اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے خود نامزد کر جاتے۔اسی طرح اگر معاویہ اپنی موجودگی میں یزید کا معاملہ لوگوں کے سامنے پیش نہ کرتے اور بعد میں قوم اسے منتخب کرتی تو ہم اسے انتخابی بادشاہ کہہ سکتے تھے مگر اب تو نہ ہم اسے خلیفہ کہہ سکتے ہیں اور نہ انتخابی بادشاہ۔ہم معاویہ کو گنہ گار نہیں کہتے انہوں نے اس وقت کے حالات سے مجبور ہوکر ایسا کیا مگر یزید کو بھی بلکہ خود معاویہ کو بھی خلیفہ نہیں کہہ سکتے ، ایک بادشاہ کہہ سکتے ہیں۔یزید کا معاملہ تو جب معاویہ نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اس وقت تمام صحابہ اسے ایک تمسخر سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔چنانچہ تاریخ میں آتا ہے کہ معاویہ نے جب لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اے مسلمانو! تم جانتے ہو ہمارا خاندان عرب کے رؤساء میں سے ہے۔پس آج مجھ سے زیادہ حکومت کا کون مستحق ہوسکتا۔اور میرے بعد میرے بیٹے سے زیادہ کون مستحق ہے تو اس وقت حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بھی ایک کو نہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں جب میں نے معاویہ کو یہ بات کہتے سنا تو وہ چادر جو میں نے اپنے پاؤں کے گرد لپیٹ رکھی تھی اس کے بند کھولے اور میں نے ارادہ کیا کہ کھڑے ہو کر معاویہ سے یہ کہوں کہ اے معاویہ؟! اس مقام کا تجھ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس کا باپ تیرے باپ کے مقابلہ میں رسول کریم لے کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر لڑتا رہا اور جو خود اسلامی ہے