انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 25

انوارالعلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی فرماتا ہے کہ اس نے ہامان سے کہا کہ قاوَقِدَ لِي يَهَا مَنْ عَلَ الطَّيْنِ فَاجْعَلْ لَيْ صَرْحًا لَعَلَى اطَّلِعُ إلَى إِلَهِ مُوسَى وَاتِي لَاخْتُهُ مِنَ الكَذِبِينَ یعنی فرعون کے سامنے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا دعویٰ پیش کیا تو فرعون نے اسے سُن کر اپنے انجنیئر ہامان کو بلایا اور اُسے حکم دیا کہ متھیر وں کو لگا دو اور ایسا اُونچاٹل بناؤ اور ایسی ایسی دور بینیں اور رصد گاہیں تیار کرو کہ ہم آسمان کے راز کھول کر رکھ دیں اور موسیٰ کے خدا کا سُراغ نکال لیں۔اسی طرح سورۃ مومن میں آتا ہے۔وقال فِرْعَوْنُ لِهَا مَنْ ابْنِ لِي صَرْحًا لعلي ابلغ الأسْبَابَ - أَسْبَابَ السّموتِ فَاطَّلِعَ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَالّي لاظنه كاذياء " کہ فرعون نے اپنے انجینیئر ہامان سے کہا کہ ہمارے لئے ایک قلعہ بناؤ مگر وہ اتنا اونچا ہو کہ اس پر چڑھ کر ہم آسمان کے راز معلوم کر سکیں اور موسیٰ کے خدا کا پتہ لگا لیں۔یہ مطلب نہیں کہ آسمان پر پہنچ جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اتنا بلند ہو کہ وہاں سے آسمان کا نظارہ آسانی سے ہو سکے۔وہاں ہم بڑی بھاری ڈور بینیں لگائیں گے اور موسیٰ کے معبود کو دیکھیں گے اور آخر میں کہا کہ میں تو اسے بالکل جھوٹا سمجھتا ہوں۔یعنی کوئی یہ نہ خیال کرے کہ مجھے قحبہ ہے که شاید جس خدا کا موسیٰ ذکر کرتا ہے وہ صحیح ہے تبھی تو میں ایک اونچا محل اس کی تلاش کیلئے بنانا چاہتا ہوں میرے اس حکم کی غرض شبہ نہیں بلکہ میری غرض موسییٰ کو جھوٹا ثابت کر کے دکھانا ہے۔اسی طرح عاد کے متعلق ایک اور آیت میں بھی ذکر آتا ہے کہ وہ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنایا کرتے تھے اور وہ یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آتَمْنُونَ بِكُلِّ رِبْعِ ايَةٌ تَعْمِنُونَ۔وتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْدُدُونَ - وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ كل فرماتا ہے عاد قوم سے مخاطب ہو کر ہم نے کہا تھا کہ تم لوگ ہر پہاڑی پر شاندار عمارتیں بناتے ہو اور بڑی بڑی فیکٹریاں اور کیمسٹری کے مرکز تیار کرتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ تم ہمیشہ قائم رہو گے جیسے یورپ کے لوگ آج کل یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی تہذیب ہمیشہ قائم رہے گی۔مَصَائِعَ سے مُراد فیکٹریاں اور کیمیکل ورکس ہیں ) پھر فرمایا جب تم کسی ملک پر غلبہ پاتے ہو تو تم اُس جگہ کی تہذیب کو بالکل تباہ کر دیتے ہو اور ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی جگہ اپنی تہذیب اور اپنا تمدن قائم کرتے ہو۔(جبار کے معنی ہیں دوسرے کو نیچا کر کے اپنے آپ کو اونچا کرنے والا۔اور ایک مطلب یہ ہے کہ دوسری اقوام کے تمدن اور تہذیب کو تباہ کر کے اپنے کا