انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 519

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دو میں اکیلا تمام دشمنوں کا مقابلہ کرونگا۔یہ يعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کی صداقت کا کتنا بڑا ثبوت ہے۔دوسرا سوال زکوۃ کا تھا۔صحابہ نے عرض کیا کہ اگر آپ لشکر نہیں روک سکتے تو صرف اتنا کر لیجئے کہ ان لوگوں سے عارضی صلح کر لیں اور انہیں کہہ دیں کہ ہم اس سال تم سے زکوۃ نہیں لیں گے۔اس دوران میں ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا اور تفرقہ کے مٹنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائیگی۔موجودہ صورت میں جب کہ وہ جوش سے بھرے ہوئے ہیں اور لڑنے مرنے کیلئے تیار ہیں ان سے زکوۃ وصول کرنا مناسب نہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ اونٹ کے گھٹنے کو باندھنے والی ایک رسی بھی زکوۃ میں دیا کرتے تھے اور اب نہیں دیں گے تو میں اُس وقت تک ان سے جنگ جاری رکھوں گا جب تک وہ رسی بھی اُن سے وصول نہ کرلوں۔اس پر صحابہ نے کہا کہ اگر جیش اسامہ بھی چلا گیا اور ان لوگوں سے عارضی صلح بھی نہ کی گئی تو پھر دشمن کا کون مقابلہ کرے گا۔مدینہ میں تو یہ بڈھے اور کمزور لوگ ہیں اور یا صرف چند نوجوان ہیں وہ بھلا لاکھوں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔اے دوستو! اگر تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ابو بکڑا کیلا ان کا مقابلہ کرنے کیلئے نکل کھڑا ہوگا۔۵۵ یہ دعویٰ اس شخص کا ہے جسے فنونِ جنگ سے کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی اور جس کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دل کا کمزور ہے۔پھر یہ جرات یہ دلیری یہ یقین اور یہ وثوق اُس میں کہاں سے پیدا ہوا۔اسی بات سے یہ یقین پیدا ہوا کہ حضرت ابو بکڑ نے سمجھ لیا تھا کہ میں خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوا ہوں اور مجھ پر ہی تمام کام کی ذمہ داری ہے۔پس میرا فرض ہے کہ میں مقابلہ کیلئے نکل کھڑا ہوں کا میابی دینا یا نہ دینا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر وہ کامیابی دینا چاہے گا تو آپ دے دے گا اور اگر نہیں دینا چاہے گا تو سارے لشکر مل کر بھی کامیاب نہیں کر سکتے۔اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمرؓ کے بہادرانہ کارنامے خلیفہ ہوئے تو وہی عمر جو ابو بکر کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا ہم کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں وہ بہت ہیں اور ہم تھوڑے حکیش اسامہ کو روک لیا جائے تاکہ وہ ہماری مدد کر سکے ، اُن میں بھی وہی تو کل آ جاتا ہے اور وہ ایک وقت میں ساری دنیا سے جنگ کرتے ہیں اور ذرا نہیں گھبراتے چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں رومی حکومت