انوارالعلوم (جلد 15) — Page 515
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده فوراً ترک کر دیا۔یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ خلفاء کا بہت بڑا رُعب تھا کیونکہ جب اسے معلوم ہوا کہ معاویہ بھی علی کے ماتحت ہو کر مجھ سے لڑنے کیلئے آ جائے گا تو وہ دم بخودرہ گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ لڑائی کرنا میرے لئے مفید نہیں ہوگا۔(۶) خلفاء کی چھٹی علامت بچے خلفاء توحید حقیقی کے علمبردار ہوتے ہیں اللہ تعالی نے یہ بتائی ہے کہ يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا وه خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔یعنی اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ غیر معمولی جرات اور دلیری پیدا کر دے گا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی اور کا خوف اُن کے دل میں پیدا نہیں ہوگا۔وہ لوگوں کے ڈر سے کوئی کام نہیں کریں گے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیں گے اور اُسی کی خوشنودی اور رضاء کیلئے تمام کام کریں گے۔یہ معنی نہیں کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔بُت پرستی تو عام مسلمان بھی نہیں کرتے گجا یہ کہ خلفاء کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔پس یہاں بت پرستی کا ذکر نہیں بلکہ اس امر کا ذکر ہے کہ وہ بندوں سے ڈر کر کسی مقام سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹا ئیں گے بلکہ جو کچھ کریں گے خدا کے منشاء اور اُس کی رضاء کو پورا کرنے کیلئے کریں گے اور اس امر کی ذرا بھی پروا نہیں کریں گے کہ اس راہ میں اُنہیں کن بلاؤں اور آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دنیا میں بڑے سے بڑا دلیر آدمی بھی بعض دفعہ لوگوں کے ڈر سے ایسا پہلو اختیار کر لیتا ہے جس سے گو یہ مقصود نہیں ہوتا کہ وہ سچائی کو چھوڑ دے مگر دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ میں ایسے رنگ میں کام کروں کہ کسی کو شکوہ پیدا نہ ہو۔مولوی غلام علی صاحب ایک کثر وہابی ہوا کرتے تھے۔وہابیوں کا یہ فتویٰ ہے کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو۔جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر ہو۔ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا نہ قاضی اس لئے وہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔اِدھر چونکہ قرآن کریم میں وہ یہ لکھا ہوا دیکھتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کیلئے بلایا جائے تو فوراً تمام کام چھوڑتے ہوئے جمعہ کی نماز کیلئے چل پڑو اس لئے اُن کے دلوں کو اطمینان نہ تھا۔ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی حنفی مولوی