انوارالعلوم (جلد 15) — Page 496
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده تو حتی الوسع ان کی اطاعت کرو۔ہاں اگر وہ کسی نص صریح کے خلاف عمل کرنے کا حکم دیں تو تمہارا حق ہے کہ ان کی غلطی پر انہیں متنبہ کرو، انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کرو اور انہیں بتاؤ کہ تم غلط راستے پر جارہے ہو اور اگر نہ مانیں اور کفر بواح کا ارتکاب کریں مثلاً نماز پڑھنے سے روک دیں یا روزے نہ رکھنے دیں تو تمہیں اس بات کا اختیار ہے کہ ان کے اس قسم کے احکام ماننے سے انکار کر دو اور کہو کہ ہم نمازیں پڑھیں گے ، ہم روزے رکھیں گے، ہم جو جی میں آئے کر لو لیکن اگر وه أولي الأمر خلفائے راشدین ہوں تو پھر سمجھ لو کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے۔وہ جو کچھ کریں گے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہوگا اور اللہ تعالیٰ انہیں اسی راہ پر چلائے گا جو اس کے نزدیک درست ہو گا۔پس ان پر حکم بننے کی بجائے اُن کو اپنے اوپر حکم بناؤ اور ان سے اختلاف کر کے اللہ تعالیٰ سے اختلاف کرنے والے مت بنو۔اس عام حکم کے بعد اب میں ان احکام کو لیتا ہوں جو خالص آیت استخلاف پر بحث دینی اسلامی نظام کے متعلق ہیں۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے قُل أطِيعُوا اللَّهَ وَاطِيْعُوا الرَّسُولَ : فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ ما حُمّل وعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُواء وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا البَلغُ الْمُبِي وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهِيمُ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتضى لَهُمْ وَلَيُبَةٍ لَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بي شَيْئًا، وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ - وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وأتُوا الزَّعُوةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ۲۵ ان آیات میں پہلے اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور پھر مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ اطاعت میں کامل ہوئے تو اللہ تعالیٰ انہیں مطاع بنا دے گا اور پہلی قوموں کی طرح ان کو بھی زمین میں خلیفہ بنائے گا اور اس وقت ان کا فرض ہوگا کہ وہ نمازیں قائم کریں اور ز کو تیں دیں اور اس طرح اللہ کے رسول کی اطاعت کریں۔یعنی خلفاء کے ساتھ دین کی تمکین کر کے وہ اطاعت رسول کرنے والے ہی ہوں گے گویا مَن يُطعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَا عَنِى وَمَنْ يعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِی کا نکتہ بیان کیا کہ اس وقت رسول کی اطاعت اسی رنگ میں ہوگی کہ اشاعت و تمکین دین میں خلفاء کی اطاعت کی جائے۔