انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 495

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده نہیں ۔ مگر ایک دینی اور اسلامی اولی الامر بتائے ہیں جن کے بارہ میں ہمیں حکم نہیں بنایا بلکہ انہیں اُمت پر حکم بنایا ہے اور فرمایا ہے جو کچھ وہ کریں وہ تم پر حجت ہے اور ان کے طریق کی اتباع اسی طرح ضروری ہے جس طرح میرے حکم کی ۔ جب ان سے پس حاکم دو قسم کے ہیں ۔ ایک وہ جو دنیوی ہیں اور جن کے متعلق اس بات کا امکان ہے کہ وہ گھر کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ ان کے متعلق تو یہ حکم دیا کہ تم ان کی اطاعت کرتے چلے جاؤ ، ہاں سے گفر بواح صادر ہو تو الگ ہو جاؤ ۔ مگر دوسرے حکام وہ ہیں جوغلا جو غلطی کر ہی نہیں سکتے ان کے متعلق یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہمیشہ ان کی سنت اور طریق کو اختیار کرنا چاہئے اور کبھی ان کے راستہ سے علیحدہ نہیں ہونا ہے ہونا چاہئے بلکہ اگر کبھی تمہیں یہ شبہ پڑ جائے کہ تمہارے جائے کہ تمہارے عقائد درست ہیں یا نہیں تو تم اپنے عقائد کو خلفائے راشدین کے عقائد کے ساتھ ملاؤ۔ اگر مل جائیں تو سمجھ لو کہ تمہارا قدم صحیح راستہ پر ہے اور اگر نہ ملے تو سمجھ لو کہ تم غلط راستے پر جا رہے ہو۔ خلفائے راشدین بین اُمت کیلئے ایک میزان ہیں گویا خلفائے راشدین ایک میزان ہیں جن سے دوسرے لوگ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا قدم صحیح راستہ پر ہے یا اس سے منحرف ہو چکا ہے ۔ جیسے دوسیر کا بٹہ ایک طرف ہو اور مولیاں گاجریں دوسری طرف تو ہر شخص ان مولیوں گاجروں کو ہی دوسیر کے بٹہ کے مطابق وزن کرے گا یہ نہیں ہو گا کہ اگر پانچ سات مولیاں کم ہوں تو بیٹے کو اُٹھا کر پھینک دے صلى الله عروسه ے اور کہہ دے کہ وہ صحیح نہیں ۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم خلفائے راشدین کے اعمال کا جائزہ لو اور دیکھو کہ وہ تمہاری عقل کے اندر آتے ہیں یا نہیں اور وہ تمہاری سمجھ کے مطابق خدا اور رسول کے احکام کے مطابق ہیں یا نہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اگر تمہیں اپنے متعلق کبھی یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ تمہارے اعمال خدا اور اس کے رسول کی رضا کے مطابق ہیں یا نہیں تو تم دیکھو کہ ان اعمال کے بارہ میں خلفائے راشدین نے کیا کہا ہے۔ اگر وہ خلفائے راشدین کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ہوں گے تو درست ہوں گے اور اگر وہ ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ ہوں گے تو غلط ہوں گے ۔ پس خدا اور رسول کا وہ حکم جس کی طرف بات کو لوٹا ۔ ات کو لوٹانے کا ارشاد ارشاد ہے یہی احکام ہیں جن کو میں نے بیان کیا ہے۔ یعنی تم یہ دیکھو کہ جن حکام سے تمہیں اختلاف ہے وہ کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ آیا وہ دنیوی حکام میں سے ہیں یا خلفائے راشدین میں سے ۔ اگر وہ دُنیوی حکام ہیں