انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 486

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده خالص دُنیوی نظام کی اجازت ہوگی جو انہی اصول پر قائم ہو گا جو اسلام نے تجویز کئے ہیں اور جن کا قبل ازیں ذکر کیا جا چکا ہے۔خالص دنیوی نظام کا مفہوم خالص زیوی نظام سے یہ مراد ہیںکہ وہ کام اسلامی احکام کو جو حکومت سے تعلق رکھتے ہیں نافذ نہیں کرے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ مذہبی طور پر اس کے احکام سب عالم اسلامی پر واجب نہ ہوں گے کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت سیاسی حالات کی وجہ سے ان کی پابندی نہ کر سکے گی اور نہ اس نظام کے قیام میں مسلمانوں کی اکثریت کا ہاتھ ہوگا۔پس ایسے وقت میں جائز ہوگا کہ ایک خالص مذہبی نظام الگ قائم کیا جائے بلکہ جائز ہی نہیں ضروری ہوگا کہ ایک خالص مذہبی نظام علیحدہ قائم کر لیا جائے جس کا تعلق اس اسلامی نظام سے ہو جس کا تعلق کسی حکومت سے نہ ہو بلکہ اسلام کی روحانی تنظیم سے ہو تا کہ غیر حکومتیں دخل اندازی نہ کریں اور چونکہ وہ صرف روحانی نظام ہوگا اور حکومت کے کاروبار میں وہ دخل نہ دے گا اس لئے ایسا نظام غیر حکومتوں میں بسنے والے مسلمانوں کو اکٹھا کر سکے گا اور اسلام پر ا گندگی سے بچ جائے گا۔اگر مسلمان اس آیت کے مفہوم پر عمل کرتے تو یقیناً جو تــنــزل مسلمانوں کو آخری زمانہ میں دیکھنا نصیب ہوا اس کا دیکھنا انہیں نصیب نہ ہوتا۔غلطی مسلمانوں کی ایک افسوسناک غل مسلمانوں سے تنزل کے وقت میں یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے سمجھا کہ اگر وہ ساری دنیا میں ایک ایسا نظام قائم نہیں کر سکے جو دینی اور دنیوی امور پر مشتمل ہو تو اُن کیلئے خالص دینی نظام کی بھی کوئی صورت نہیں اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ دونوں نظام کسی صورت میں بھی الگ نہیں ہو سکتے اور جب ایک نظام ان کیلئے ناممکن ہو گیا تو انہوں نے دوسرے نظام کو بھی ترک کر دیا حالانکہ مسلمانوں کا فرض تھا کہ جب ان میں سے خلافت جاتی رہی تھی تو وہ کہتے کہ آؤ جو قومی مسائل ہیں ان کیلئے ہم ایک مرکز بنالیں اور اس کے ماتحت ساری دنیا میں اسلام کو پھیلائیں۔چنانچہ وہ اس مرکز کے ماتحت دنیا بھر میں تبلیغی مشن قائم کرتے ، لوگوں کے اخلاق کی درستی کی کوشش کرتے ، لوگوں کو قرآن پڑھاتے ، غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرتے اور جو مشتر کہ قومی مسائل ہیں ان میں مشترکہ جد و جہد اور کوشش سے کام لیتے مگر انہوں نے سمجھا کہ اب ان کیلئے کسی خالص دینی نظام کے قیام کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہ گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ روز بروز تنزل میں