انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 485

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده پڑتا ہے۔پس اس کے بارہ میں فیصلہ کرتے وقت اپنی اغراض کو نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ قوم کی ضرورتوں اور فوائد کو دیکھنا چاہئے۔(۲) اس امانت کی ادائیگی کیلئے ایک نظام کی ضرورت ہے جس کے بغیر یہ امانت ادا نہیں ہو سکتی۔یعنی افراد فرداً فرداً اس امانت کو پورا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے بلکہ ضرور ہے کہ اس کی ادائیگی کیلئے کوئی منصرم ہوں۔(۳) ان منصرموں کو قو م منتخب کرے۔(۴) انتخاب میں یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ جنہیں منتخب کیا جائے وہ ان امانتوں کو پورا کرنے کے اہل ہوں۔اس کے سوا اور کوئی امر انتخاب میں مدنظر نہیں ہونا چاہئے۔(۵) جن کے سپرد یہ کام کیا جائے گا وہ امر قومی کے مالک نہ ہوں گے بلکہ صرف منصرم ہوں گے۔کیونکہ فرمایا رانی آھیما یعنی ان کے سپر د اس لئے یہ کام نہ ہوگا کہ وہ باپ دادا سے اس کے وارث اور مالک ہوں گے بلکہ اس لئے کہ وہ اس خدمت کے اہل ہوں گے۔یہ احکام کسی خاص مذہبی نظام کے متعلق نہیں بلکہ جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے عام ہیں خواہ مذہبی نظام ہوا ور خواہ دُنیوی ہو اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ملوکیت کو اپنے نظام کا حصہ تسلیم نہیں کرتا بلکہ اسلام صرف انتخابی نظام کو تسلیم کرتا ہے اور پھر اس نظام کے بارہ میں فرماتا ہے کہ جن کے سپرد یہ کام ہوا فراد کو چاہئے کہ ان کی اطاعت کریں۔اگر کہا جائے کیا اسلام کسی خالص دنیوی حکومت کو تسلیم کرتا ہے کہ کیا اسلام کسی خالص دُنیوی حکومت کو بھی تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام سب صحیح سامانوں کی موجودگی میں جبکہ سارے سامان اسلام کی تائید میں ہوں اور جبکہ اسلام آزاد ہو خالص دنیوی نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔مگر وہ حالات کے اختلاف کو بھی نظر انداز نہیں کرتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت وہ اعلیٰ نظام جو اسلام کے مدنظر ہو نافذ نہ کیا جا سکے اس صورت میں ڈنیوی نظاموں کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے۔مثلاً کسی وقت اگر مسلمانوں کا معتد بہ حصہ گفا رحکومتوں کے ماتحت ہو جائے ، ان کی خریت سلب ہو جائے ، ان کی آزادی جاتی رہے اور ان کی اجتماعی قوت قائم نہ رہے تو جن ملکوں میں اسلام کا زور ہو وہ مذہبی اور دُنیوی نظام اکٹھا قائم نہیں کر سکتے۔کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت اس کی اتباع نہیں کر سکتی۔پس اس مجبوری کی وجہ سے ان ملکوں میں