انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 480

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کرنے کی انسان کو ہمیشہ ضرورت رہے گی ۔ جب عورت کو تعلیم حاصل ہو گی ، جب عورت کے اندر تقویٰ ہوگا، جب عورت کے اندر دین کی محبت ہوگی ، جب عورت کے دل میں خدا اور اُس کے رسول کے احکام پر چلنے کی ایک والہا نہ تڑپ ہوگی تو ناممکن ہے کہ وہ یہی جذبات اپنی اولاد کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پس مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ آج کی جنت تیار کریں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ گل کی جنت تیار کریں۔ مردوں کا یہ کام ہے کہ وہ جنت بنائیں اور عورتوں کا یہ کام ہے کہ وہ اس جنت کیلئے نئے مالی پیدا کریں۔ اگر ایک طرف مرد اُس جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہوا اور دوسری طرف عورت اس کی تعمیر میں لگی ہوتی ہے۔ اگر ایک طرف مرد اس کی حفاظت کرتا ہوا اور دوسری طرف عورت اس کی حفاظت کیلئے نئے سے نئے مالی پیدا کرتی چلی جاتی ہو تو پھر کون ہے جو اُس جنت کو برباد کر سکے ۔ کون ہے جو قومی وحدت ، قومی عظمت اور قومی شان کو نقصان پہنچا سکے۔ مگر جس دن عورت کو اس جنت کی تعمیر میں شریک ہونے سے روک دیا جائے گا اُسی دن اگلے مالی پیدا ہونے بند ہو جائیں گے اُسی دن پہلوں کی ٹریننگ ختم ہو جائے گی اور جب پہلوں کی ٹریننگ ختم ہو گئی اور اگلوں کا سلسلہ بھی بند ہو گیا تو وہ جنت کبھی قائم نہیں رہ سکتی بلکہ ضرور ہے کہ شیطان اُسے اُجاڑ کر رکھ دے۔ ایک عظیم الشان نکتہ پس یہ ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ حیات ملی کے قیام کیلئے مردوں او قیام کیلئے مَردوں اور عورتوں دونوں کو مل کر کوشش کرنی چاہئے ۔ جب تک عورتوں کو اپنے ساتھ شریک نہیں کرو گے اُس وقت تک تم یقین رکھو کہ تم جنت نہیں بنا سکو گے ۔ اگر تم اپنی کوشش سے ساری دنیا کو بھی ایک دفعہ نمازی بنا لو تو اس کا کیا فائدہ جب کہ اُن نمازیوں کی اولادوں کو انہی کی مائیں بے نماز بنانے میں مصروف ہوں ۔ اس طرح تو یہی ہوگا کہ تم جنت بناؤ گے اور عورتیں اُس جنت کو برباد کرتی چلی جائیں گی ۔ ہمارا ایک رشتہ دار ہوا کرتا تھا جو دین کا سخت مخالف اور خدا اور رسول کے احکام پر ہمیشہ بنسی اور تمسخر اڑایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور علاج کیلئے حضرت خلیفہ اول کے پاس آیا۔ حضرت خلیفہ اول نے باتوں باتوں میں اس سے کہا کہ مرزا صاحب ! آپ کے پہلو میں پانچ وقت لوگ مسجد میں آ کر نمازیں پڑھتے ہیں کیا آپ کو کبھی اس پر رشک نہیں آیا ؟ اور کیا آپ کے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ آپ کو بھی نمازیں پڑھنی چاہئیں؟ اس نے یہ سن کر بڑے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا مولوی صاحب میں تو بچپن سے ہی سلیم الفطرت واقع ہوا ہوں۔ چنانچہ ان دنوں میں