انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 475

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده خلافت ثانیہ کا قیام عمل میں آیا۔میں نے سنا ہے کہ اُس وقت مولوی محمد علی صاحب بھی کچھ کہنے کیلئے کھڑے ہوئے تھے مگر کسی نے اُن کے کوٹ کو جھٹک کر کہا کہ آپ بیٹھ جائیں۔بہر حال جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ما تحت ہوا اور وہ جس کو خلیفہ بنانا چاہتا تھا اس کو اس نے خلیفہ بنا دیا۔حضرت خلیفہ اول کے بعض یہ لوگ حضرت خلیفہ اول کو اپنے متعلق ہمیشہ غلط فہمی میں مبتلاء کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے ارشادات کی اصل حقیقت اس لئے حضرت خلیفہ اول کے لیکچروں میں بعض جگہ اس قسم کے الفاظ نظر آ جاتے ہیں کہ لاہوری دوستوں پر بدظنی نہیں کرنی چاہئے۔یہ خیال کرنا کہ وہ خلافت کے مخالف ہیں جھوٹ ہے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ خود حضرت خلیفہ اول سے بار بار کہتے کہ ہمارے متعلق جو کچھ کہا جاتا ہے جھوٹ ہے ، ہم تو خلافت کے صدق دل سے موید ہیں۔مگر اب دیکھ لو ان کا جھوٹ کس طرح ظاہر ہو گیا اور جن باتوں کا وہ قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کرتے تھے اب کس طرح شدت سے اُن کا انکار کرتے رہتے ہیں۔غرض حضرت خلیفہ اول کی خلافت کو تسلیم کر لینے کے بعد ان لوگوں نے بھی خوارج کی طرح الْحُكْمُ لِلَّهِ وَالامْرُشُورى بَيْنَنَا ۳۲ے کا راگ الاپنا شروع کر دیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں نا کام رکھا اور جماعت میرے ہاتھ پر جمع ہوئی۔اُن کے بعد بھی بعض لوگ بعض اغراض کے ماتحت بیعت سے علیحدہ ہوئے اور انہوں نے بھی ہمیشہ وہی شور مچایا جو خوارج مچایا کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے آج تک اُن کو ناکام و نامراد رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی جماعت کو ان کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔خلافت کے بارہ میں قرآنی احکام یہ تو تاریخ خلافت ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن واحادیث میں اس بارہ میں کیا روشنی ملتی ہے اور کیا کوئی نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام نے تجویز کیا ہے یا نہیں اور اگر کیا ہے تو وہ کیا ہے۔اس بارہ میں جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں پہلا اصولی حکم قرآن کریم میں یہ ملتا ہے کہ:۔ألَمْ تَرَ الى الذين أوتُوا نَصِيبًا من الكتب يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ