انوارالعلوم (جلد 15) — Page 469
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده شیخ یعقوب علی صاحب سے اس موقع پر جو بیعت لی گئی وہ اس لئے لی گئی تھی کہ شیخ صاحب نے ایک جلسہ کیا تھا جس میں اُن لوگوں کے خلاف تقریریں کی گئی تھیں جنہوں نے نظام خلافت کی تحقیر کی تھی اور گو یہ اچھا کام تھا مگر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا جب ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا تو ان کا کیا حق تھا کہ وہ خود بخو دا لگ جلسہ کرتے۔غرض ان تینوں سے دوبارہ بیعت لی گئی اور انہوں نے سب کے سامنے توبہ کی مگر جب جلسہ ختم ہو گیا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کے خلاف اور زیادہ منصوبے کرنے شروع کر دیئے اور مولوی محمد علی صاحب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میری اس قد رہتک کی گئی ہے کہ اب میں قادیان میں نہیں رہ سکتا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ان دنوں مولوی محمد علی صاحب سے بہت تعلق رکھا کرتے تھے۔ایک دن وہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت خلیفہ اول کے پاس پہنچے۔میں بھی اتفاقاً وہیں موجود تھا اور آتے ہی کہا کہ حضور ! غضب ہو گیا آپ جلدی کوئی انتظام کریں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا مولوی محمد علی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میری یہاں سخت ہتک ہوئی ہے اور میں اب قادیان میں کسی صورت میں نہیں رہ سکتا۔آپ جلدی کریں اور کسی طرح مولوی محمد علی صاحب کو منانے کی کوشش کریں ، ایسا نہ ہو کہ وہ چلے جائیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ڈاکٹر صاحب ! مولوی صاحب سے جا کر کہہ دیجئے کہ کل کے آنے میں تو ابھی دیر ہے ، آپ جانا چاہتے ہیں تو آج ہی قادیان سے چلے جائیں۔ڈاکٹر صاحب جو یہ خیال کر رہے تھے کہ اگر مولوی محمد علی صاحب قادیان سے چلے گئے تو نہ معلوم کیا زلزلہ آ جائے گا اُن کے تو یہ جواب سن کر ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے کہا حضور ! پھر تو بڑا فساد ہوگا۔حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا۔مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔میں خدا کا قائم کردہ خلیفہ ہوں میں ان دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں۔اس جواب کو سن کر مولوی محمد علی صاحب بھی خاموش ہو گئے اور پھر انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں قادیان سے جانے کے ارادے کا اظہار نہیں کیا۔البتہ اندر ہی اندر کھچڑی پکتی رہی اور کئی طرح کے منصوبوں سے انہوں نے جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔یہ بہت لمبے واقعات ہیں جن کو تفصیلاً بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری میں حضرت خلیفہ اول جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو طبعاً ہم سب کے قلوب میں ایک ایک اشتہار شائع کرنے کی تجویز ہے چینی تھی اور ہم نہایت ہی افسوس کے ساتھ