انوارالعلوم (جلد 15) — Page 467
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده جماعت میں ایک غیر معمولی جوش پایا جاتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ خلیفہ وقت کے خلاف خطر ناک بغاوت ہو جائے گی۔بیرونی جماعتوں کے نمائندوں آخر وہ دن آ گیا جو حضرت خلیفہ اول نے اس غرض کیلئے مقرر کیا تھا اور جس میں بیرونی کا قادیان میں اجتماع جماعتوں کے نمائندگان کو قادیان میں جمع ہونے کیلئے کہا گیا تھا۔میں اس روز صبح کی نماز کے انتظار میں اپنے دالان میں ٹہل رہا تھا اور حضرت خلیفہ اول کی آمد کا انتظار کیا جارہا تھا کہ میرے کانوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی۔وہ بڑے جوش سے مسجد میں کہہ رہے تھے کہ غضب خدا کا ایک لڑکے کی خاطر جماعت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔پہلے تو میں سمجھا کہ اس سے مراد شاید میر محمد اسحاق صاحب ہیں مگر پھر شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ جماعت ایک لڑکے کی غلامی کس طرح کر سکتی ہے۔اس پر میں اور زیادہ حیران ہوا اور میں سوچنے لگا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے تو صرف چند سوالات دریافت کئے ہیں ان کے ساتھ جماعت کی غلامی یا عدم غلامی کا کیا تعلق ہے مگر باوجو د سو چنے اور غور کرنے کے میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس بچے سے کون مراد ہے۔آخر صبح کی نماز کے بعد میں نے حضرت خلیفہ اول سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور میں نے کہا کہ نہ معلوم آج مسجد میں کیا جھگڑا تھا کہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ ہم ایک بچہ کی بیعت کس طرح کر لیں اسی کی خاطر یہ تمام فساد ڈلوایا جا رہا ہے۔میں تو نہیں سمجھ سکا کہ یہ بچہ کون ہے۔حضرت خلیفہ اول میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا۔تمہیں نہیں پتہ۔اس سے مراد تم ہی تو ہو۔غالبا شیخ صاحب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ تمام سوالات میں نے ہی لکھوائے ہیں اور میری وجہ سے ہی جماعت میں یہ شور اٹھا ہے۔مسئلہ خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ اول کی تقریر اس کے بعد حضرت خلیفہ اول تقریر کرنے کیلئے تشریف لائے۔اس تقریر کے متعلق بھی پہلے سے میں نے ایک رؤیا د یکھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ کوئی جلسہ ہے جس میں حضرت خلیفہ اول کھڑے تقریر کر رہے ہیں اور تقریر مسئلہ خلافت پر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی لشکر ہے جو آپ پر حملہ آور ہوا ہے۔اس وقت میں بھی جلسہ میں آیا اور آپ کے دائیں طرف کھڑے ہو کر میں نے کہا کہ حضور کوئی فکر نہ کریں ہم آپ کے خادم ہیں اور آپ کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں تک دینے کیلئے تیار ہیں۔ہم مارے