انوارالعلوم (جلد 15) — Page 466
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده اینٹیں وغیرہ رکھ کر مٹی ڈالنی باقی ہے۔اس حصہ عمارت پر ہم چار پانچ آدمی کھڑے ہیں جن میں سے ایک میر محمد اسحاق صاحب بھی ہیں۔اچانک وہاں کڑیوں پر ہمیں کچھ بھوسہ دکھائی دیا۔میر محمد اسحاق صاحب نے جلدی سے ایک دیا سلائی کی ڈبیہ میں سے ایک دیا سلائی نکال کر کہا میرا جی چاہتا ہے کہ اس بُھو سے کو آگ لگا دوں۔میں انہیں منع کرتا ہوں مگر وہ نہیں رکھتے۔آخر میں انہیں سختی سے کہتا ہوں کہ اس بھوسے کو ایک دن آگ تو لگائی ہی جائے گی مگر ابھی وقت نہیں آیا اور یہ کہہ کر میں دوسری طرف متوجہ ہو گیا لیکن تھوڑی دیر کے بعد مجھے کچھ شور سا سنائی دیا۔میں نے منہ پھیرا تو دیکھا۔میر محمد اسحاق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں مگر وہ جلتی نہیں ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری دیا سلائی نکال کر وہ اس طرح رگڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بُھو سے کو آگ لگا دیں۔میں یہ دیکھتے ہی ان کی طرف دوڑ پڑا مگر میرے پہنچنے سے پہلے پہلے ایک دیا سلائی جل گئی جس سے انہوں نے بھوسے کو آگ لگا دی۔میں یہ دیکھ کر آگ میں کود پڑا اور اسے جلدی سے بجھا دیا مگر اس دوران میں چند کڑیوں کے سرے جل گئے۔میں نے یہ خواب لکھ کر حضرت خلیفہ اول کے سامنے پیش کی تو آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا کہ خواب تو پوری ہوگئی۔میں نے عرض کیا کہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا۔میر محمد اسحاق نے کچھ سوالات لکھ کر دئیے ہیں۔وہ سوال میں نے باہر جماعتوں کو بھجوا دیئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس سے بہت بڑا فتنہ پیدا ہوگا۔مجھے اس پر بھی کچھ معلوم نہ ہوا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے کیا سوالات کئے ہیں لیکن بعد میں میں نے بعض دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے ان سوالات کا مفہوم بتایا اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ سوالات خلافت کے متعلق ہیں۔میر صاحب کے ان سوالات کی وجہ سے جماعت میں ایک شور برپا ہو گیا اور چاروں طرف سے ان کے جوابات آنے شروع ہو گئے۔اس وقت ان لوگوں نے جس طرح جماعت کو دھوکا میں مبتلاء کرنا چاہا وہ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے متواتر جماعت کو یہ کہا کہ جن خیالات کا وہ اظہار کر رہے ہیں وہی خیالات حضرت خلیفہ اول کے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں یہ سوال اُٹھا اگر بعد میں اُٹھتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہوتا۔بعض کہتے کہ بہت اچھا ہوا آج جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اکثر صحابہ زندہ ہیں اس امر کا فیصلہ ہونے لگا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے۔غرض جماعت پر یہ پوری طرح اثر ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ نَعُوذُ بِالله ) حضرت خلیفہ اول ان کے خیالات سے متفق ہیں۔مگر بہر حال اس وقت