انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 464

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده کو ایسے الہامات ہوتے رہے اور باوجود اس کے کہ بعض الہامات و کشوف میں آپ کی وفات کے سال اور تاریخ وغیرہ کی بھی تعین تھی اور باوجود اس کے کہ ہم ” الوصیت پڑھتے تھے ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ باتیں شاید آج سے دوصدیاں بعد پوری ہوں گی اس لئے اس بات کا خیال بھی دل میں نہیں گزرتا تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پا جائیں گے تو کیا ہوگا۔اور چونکہ ہماری حالت ایسی تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے سامنے فوت ہی نہیں ہو سکتے اس لئے جب واقعہ میں آپ کی وفات ہوگئی تو ہمارے لئے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔چنانچہ مجھے خوب یاد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب آپ کو غسل دیگر کفن پہنایا گیا تو چونکہ ایسے موقع پر بعض دفعہ ہوا کے جھونکے سے کپڑا ہل جاتا ہے یا بعض دفعہ مونچھیں ہل جاتی ہیں اس لئے بعض دوست دوڑتے ہوئے آتے اور کہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو زندہ ہیں۔ہم نے آپ کا کپڑا ہلتے دیکھا ہے یا مونچھوں کے بالوں کو ہلتے دیکھا ہے اور بعض کہتے کہ ہم نے کفن کو ملتے دیکھا ہے۔اس کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نعش کو قادیان لایا گیا تو ا سے باغ میں ایک مکان کے اندر رکھ دیا گیا۔کوئی آٹھ نو بجے کا وقت ہوگا کہ خواجہ کمال الدین صاحب باغ میں پہنچے اور مجھے علیحدہ لے جا کر کہنے لگے کہ میاں ! کچھ سوچا بھی ہے کہ اب حضرت صاحب کی وفات کے بعد کیا ہوگا۔میں نے کہا کچھ ہونا تو چاہئے مگر یہ کہ کیا ہو اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہ سکتا۔وہ کہنے لگے میرے نزدیک ہم سب کو حضرت مولوی صاحب کی بیعت کر لینی چاہئے۔اس وقت کچھ عمر کے لحاظ سے اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ میرا مطالعہ کم تھا میں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یہ کہیں نہیں لکھا کہ ہم آپ کے بعد کسی اور کی بیعت کر لیں اس لئے حضرت مولوی صاحب کی ہم کیوں بیعت کریں۔( گو "الوصية، میں اس کا ذکر تھا مگر اُس وقت میرا ذہن اس طرف گیا نہیں ) انہوں نے اس پر میرے ساتھ بحث شروع کر دی اور کہا کہ اگر اس وقت ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی گئی تو ہماری جماعت تباہ ہو جائے گی پھر انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی تو یہی ہوا تھا کہ قوم نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تھی اس لئے اب بھی ہمیں ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے اور اس منصب کیلئے حضرت مولوی صاحب سے بڑھ کر ہماری جماعت میں اور کوئی شخص نہیں۔مولوی محمد علی صاحب کی بھی یہی رائے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ تمام جماعت کو مولوی صاحب کی بیعت کرنی چاہئے۔آخر جماعت نے متفقہ طور پر حضرت