انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 463

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده خلافت کے بارہ میں مسلمانوں میں تین گروہ ان مختلف قسم کے خیالات کے نتیجہ میں مسلمانوں میں خلافت کے بارہ میں تین گروہ ہو گئے۔(1) خلافت بمعنی نیابت ہے اور رسول کریم ﷺ کے بعد آپ کا کوئی نائب ہونا چاہئے۔مگر اس کا طریق یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت کے فیصلہ کے مطابق یا خلیفہ کے تقرر کے مطابق جسے اُمت تسلیم کرے وہ شخص خلیفہ مقرر ہوتا ہے اور وہ واجب الاطاعت ہوتا ہے۔یہ سنی کہلاتے ہیں۔(۲) حکم خدا کا ہے۔کسی شخص کو واجب الاطاعت ماننا شرک ہے۔کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے اور مسلمان آزاد ہیں وہ جو کچھ چاہیں اپنے لئے مقرر کریں۔یہ خوارج کہلاتے ہیں۔(۳) انسان امیر مقرر نہیں کرتے بلکہ امیر مقرر کرنا خدا کا کام ہے اسی نے حضرت علی کو امام مقرر کیا اور آپ کے بعد گیارہ اور امام مقرر کئے۔آخری امام اب تک زندہ موجود ہے مگر مخفی۔یہ شیعہ کہلاتے ہیں۔ان میں سے ایک فریق ایسا نکلا کہ اس نے کہا۔دنیا میں ہر وقت زندہ امام کا ہونا ضروری ہے جو ظا ہر بھی ہوا اور یہ اسماعیلیہ شیعہ کہلاتے ہیں۔یہ تو اس خلافت کی تاریخ ہے جو رسول کریم ﷺ کے معا بعد خلافت احمدیہ کا ذکر ہوئی۔اب میں اس خلافت کا ذکر کرتا ہوں جوحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت بھی جماعت کی ذہنی کیفیت وہی تھی جو آنحضرت ﷺ کے وقت میں صحابہ کی تھی۔چنانچہ ہم سب یہی سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی وفات نہیں پاسکتے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ کبھی ایک منٹ کیلئے بھی ہمارے دل میں یہ خیال نہیں آیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہو جائیں گے تو کیا ہوگا۔میں اس وقت بچہ نہیں تھا بلکہ جوانی کی عمر کو پہنچا ہوا تھا، میں مضامین لکھا کرتا تھا، میں ایک رسالے کا ایڈیٹر بھی تھا، مگر میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی ایک منٹ بلکہ ایک سیکنڈ کیلئے بھی میرے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پا جائیں گے حالانکہ آخری سالوں میں متواتر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے الہامات ہوئے جن میں آپ کی وفات کی خبر ہوتی تھی اور آخری ایام میں تو ان کی کثرت اور بھی بڑھ گئی مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام