انوارالعلوم (جلد 15) — Page 461
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اعلان کر دیا کہ وہ حضرت علی کو خلافت سے معزول کرتے ہیں اس کے بعد حضرت عمرو بن العاص کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ابو موسیٰ نے حضرت علیؓ کو معزول کر دیا ہے اور میں بھی ان کی اس بات سے متفق ہوں اور حضرت علی کو خلافت سے معزول کرتا ہوں لیکن معاویہؓ کو میں معزول نہیں کرتا بلکہ ان کے عہدہ امارت پر انہیں بحال رکھتا ہوں (حضرت عمر و بن العاص خود بہت نیک آدمی تھے لیکن اس وقت میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا تھا ) اس فیصلہ پر حضرت معاویہ کے ساتھیوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ جو لوگ حکم مقرر ہوئے تھے انہوں نے علی کی بجائے معاویہ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور یہ درست ہے۔مگر حضرت علیؓ نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ نہ حکم اس غرض کیلئے مقرر تھے اور نہ ان کا یہ فیصلہ کسی قرآنی حکم پر ہے۔اس پر حضرت علی کے وہی منافق طبع ساتھی جنہوں نے حکم مقرر کرنے پر زور دیا تھا یہ شور مچانے لگ گئے کہ حکم مقرر ہی کیوں کئے گئے تھے جبکہ دینی معاملات میں کوئی حکم ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ اول تو یہ بات معاہدہ میں شامل تھی کہ ان کا فیصلہ قرآن کے مطابق ہوگا جس کی انہوں نے تعمیل نہیں کی۔دوسرے حگم تو خود تمہارے اصرار کی وجہ سے مقرر کیا گیا تھا اور اب تم ہی کہتے ہو کہ میں نے حکم کیوں مقرر کیا۔انہوں نے کہا ہم نے جھک مارا اور ہم نے آپ سے جو کچھ کہا تھا وہ ہماری غلطی تھی۔مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ بات کیوں مانی۔اس کے تو یہ معنی ہیں کہ ہم بھی گنہ گار ہو گئے اور آپ بھی۔ہم نے بھی غلطی کا ارتکاب کیا اور آپ نے بھی۔اب ہم نے تو اپنی غلطی سے توبہ کر لی ہے مناسب یہ ہے کہ آپ بھی تو یہ کریں اور اس امر کا اقرار کریں کہ آپ نے جو کچھ کیا ہے ناجائز کیا ہے۔اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ اگر حضرت علی نے انکار کیا تو وہ یہ کہہ کر آپ کی بیعت سے الگ ہو جائیں گے کہ انہوں نے چونکہ ایک خلاف اسلام فعل کیا ہے اس لئے ہم آپ کی بیعت میں نہیں رہ سکتے اور اگر انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ میں تو بہ کرتا ہوں تو بھی ان کی خلافت باطل ہو جائے گی کیونکہ جو شخص اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کرے وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے۔حضرت علیؓ نے جب یہ باتیں سنیں تو کہا کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔جس امر کے متعلق میں نے حکم مقرر کیا تھا اس میں کسی کو حکم مقرر کرنا شریعت اسلامیہ کی رُو سے جائز ہے باقی میں نے حکم مقرر کرتے وقت صاف طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ وہ جو کچھ فیصلہ کریں گے اگر قرآن اور حدیث کے مطابق ہو گا تب میں اسے منظور کروں گا ور نہ میں اسے کسی صورت میں بھی منظور نہیں کروں گا۔انہوں نے چونکہ اس شرط کو ملحوظ نہیں رکھا