انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 451

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده جاتے ہیں اور اسے کہا جاتا ہے کہ تو مامور ہے اور تجھے لوگوں کی اصلاح اور ان کی ہدایت کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ان الہامات کے نتیجہ میں وہ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے غیر معمولی فضل نازل ہوتے دیکھتا ہے اور وہ اپنے اندر نئی قوت نئی زندگی اور نئی بزرگی محسوس کرتا ہے۔اور نبی کی قومی زندگی الہام سے اس طرح شروع ہوتی ہے کہ جب وہ وفات پاتا ہے تو کسی بنی بنائی سکیم کے ماتحت اس کے بعد نظام قائم نہیں ہوتا بلکہ یکدم ایک تغیر پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالی کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس نظام کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔قدرت اولی نبی کی شخصی زندگی ہوتی غرض جس طرح نہیں کی شخصی زندگی کو اللہ تعالیٰ الہام سے شروع کرتا ہے اسی ہے اور قدرت ثانیہ قومی زندگی طرح وہ اس کی قومی زندگی کو جو اس کی وفات کے بعد شروع ہوتی ہے الہام سے شروع کرنا چاہتا ہے تاکہ دونوں میں مشابہت قائم رہے اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا نام قدرت ثانیہ رکھا ہے۔گویا قدرت اولی تو نبی کی شخصی زندگی ہے اور قدرت ثانیہ نبی کی قومی زندگی ہے۔پس چونکہ اللہ تعالیٰ اس قومی زندگی کو ایک الہام سے اور اپنی قدرت سے شروع کرنا چاہتا ہے اس لئے اس کی جزئیات کو نبی کے زمانہ میں قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھتا ہے۔پھر جب نبی فوت ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس زندگی کی تفصیلات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔انجیل میں بھی اسی قسم کی مثال پائی جاتی ہے جہاں ذکر آتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کی وفات کے بعد حواری ایک جگہ جمع ہوئے تو ان پر روح القدس نازل ہوا اور وہ کئی قسم کی بولیاں بولنے لگ گئے اور گو انجیل نویسوں نے اس واقعہ کو نہایت مضحکہ خیز صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے مگر اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد حواریوں میں یکدم کوئی ایسا تغیر پیدا ہوا جس کی طرف پہلے ان کی توجہ نہیں تھی اور وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اس تغیر کو روح القدس کی طرف منسوب کریں۔غرض اللہ تعالیٰ نبی کی اس نئی زندگی کو بھی اس کی شخصی زندگی کی طرح اپنے الہام اور قدرت نمائی سے شروع کرتا ہے اور اسی وجہ سے نبی کے زمانہ میں اس کی جزئیات قوم کی نظروں سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں۔یہاں میں ایک بات بطور لطیفہ بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ یہ قرطاس پر ایک نظر سیر شیعوں اور سنیوں میں بہت مدت سے ایک نزاع چالا