انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 449

انوار العلوم جلد ۱۵ صلى الله ر وسلم خلافت را شده موت وارد وارد ہو۔ ہو جائے اور اور وہ وہ صحیح اعتقادات سے منحرف ہو جائے ۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور من منبر پر کھڑے ہو کر آپ نے ایک وعظ کیا جس میں بتایا کہ محمد رسول اللہ علیہ فوت ہو چکے ہیں ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی کہ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ - قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكم ولا اس کے بعد آپ نے بڑے زور سے کہا کہ اے لوگو ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیشک اللہ کے رسول تھے مگر اب وہ فوت ہو چکے ہیں ۔ اگر تم میں سے کوئی شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ آپ وفات پاچکے ہیں لیکن اگر تم خدا کی عبادت کیا کرتے تھے تو تم سمجھ لو کہ تمہارا خدا زندہ ہے اور اس پر بھی موت کبھی ۔ موت وارد نہیں ہو سکتی ۔ حضرت عمرؓ جو اس وقت تلوار کی ٹیک کے ساتھ کھڑے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ ابھی یہ منبر سے اتریں تو میں تلوار سے ان کی گردن اڑا دوں ۔ انہوں نے جس وقت یہ آیت سُنی معًا ان کی آنکھوں کے سامنے سے ایک پردہ اُٹھ گیا۔ ان کے گھٹنے کا نپنے لگ گئے ۔ ان کے ہاتھ لرزنے لگ گئے اور ان کے جسم پر ایک کپکپی طاری ہو گئی اور وہ ضعف سے نڈھال ہو کر زمین پر گر گئے ۔ باقی صحابہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری آنکھوں پر پہلے پردے پڑے ہوئے تھے مگر جب ہم نے حضرت ابو بکر سے یہ آیت سنی تو وہ تمام پردے اُٹھ گئے ۔ دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیر ہو گئی اور مدینہ کی تمام گلیوں میں صحابہ روتے پھرتے تھے اور ہر ایک کی زبان پر یہ آیت تھی کہ وَ مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولُ - قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ۔ حضرت حسان کا یہ شعر بھی اسی کیفیت پر دلالت کرتا ہے کہ كُنْتَ السَّوادَ لِنَا ظِرِي فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ ال کہ اے خدا کے رسول ! تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا ۔ اب تیرے وفات پا جانے کی وجہ سے میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے۔ صرف تو ہی ایک ایسا وجود تھا جس کے متعلق مجھے موت کا خوف تھا۔ اب تیری وفات کے بعد خواہ کوئی مرے مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی ۔ نبی کی زندگی میں اسکی جانشینی کے پس جب نبی کی زندگی میں قوم کے دل اور دماغ کی یہ کیفیت ہوتی ہے تو سمجھا جا سکتا مسئلہ کی طرف توجہ ہی نہیں ہو سکتی ہے کہ خدا بھی اور نبی بھی ان کو اس ایذاء