انوارالعلوم (جلد 15) — Page 444
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ملوکیت کا اسلام ملکی اور قانونی نظام کا قائل ہے مائل نہیں کیونکہ ملوکیت ایک خاص معنی رکھتی ہے اور ان معنوں کی حکومت کا اسلام مخالف ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق بھی فرمایا کہ میں بادشاہ نہیں اور خلفاء کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملوک کا لفظ استعمال نہیں فرمایا مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اسلام مذہبی طور پر کسی بھی ملکی نظام کا قائل نہیں۔اگر کوئی نظام قرآن اور اسلام سے ثابت ہو تو ہم کہیں گے کہ اسلام ملوکیت کا بے شک مخالف ہے مگر ایک خاص قسم کے نظام کو اس کی جگہ قائم کرتا ہے اور وہ اسلام کا مذہبی حصہ ہے اور چونکہ وہ مذہبی حصہ ہے اُس کا قیام مسلمانوں کیلئے ضروری ہے جہاں تک اُن کی طاقت ہو۔حکومت در حقیقت نام ہے ملکی حدود اور اس میں خاص اختیارات کے اجراء کا۔کسی خاص طرز کا نام نہیں اور ملکی حدود اور خاص اختیارات کا نفاذ قرآن کریم سے ثابت ہے۔جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے جن کو میں ابھی پیش کر چکا ہوں۔پس جب کہ ایک ملکی حد اور اس حد میں ایک خاص قانون اور ایک اصلی باشندے ملک کے اور ایک معاہد اور ایک غیر ملکی کا وجود پایا جاتا ہے تو ایک خاص نظام حکومت بھی ثابت ہے اس کا نام ہم بھی ملوکیت نہیں رکھتے کیونکہ ملوکیت ایسے معنوں کی حامل ہے جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا لیکن بہر حال ایک ملکی اور قانونی نظام ثابت ہے اور اسی کے وجود کو ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اسی نظام کے قیام کیلئے ہم خلافت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔پس خلافت ایک اسلامی نظام ہے نہ کہ وقتی مصلحت کا نتیجہ۔میں اس امر کو مانتا ہوں کہ خلافت کے انکار سے منطقی نظر یہ وہی قائم ہوتا ہے جو علی بن عبدالرزاق نے قائم کیا ہے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام کو بھی کسی نہ کسی رنگ میں رڈ کرنا پڑتا ہے اور جو لوگ اس نظریہ کو تسلیم کئے بغیر خلافت کا انکار کرتے ہیں وہ یا تو بیوقوف ہیں یا لوگوں کی آنکھوں میں خاک جھونکنا چاہتے ہیں۔اب جب کہ قرآن کریم سے یہ امر ثابت ہو گیا کہ اسلام امور ملکی اور نظام قومی کو مذہب کا حصہ قرار دیتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان امور میں حصہ لینا اسے مذہب کا جز و قرار دیتا ہے تو ان امور میں آپ کی ہدایت اور راہنمائی اُسی طرح سنت اور قابل نمونہ ہوئی جس طرح کہ نماز روزہ وغیرہ احکام میں اور اِن امور میں کسی آزادی کا مطالبہ اُسی وقت تسلیم ہو سکتا ہے جب کہ انسان اسلام سے بھی آزادی کا مطالبہ کرے اور جب یہ ثابت ہو گیا تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جس طرح نماز روزہ کے احکام رسول کریم