انوارالعلوم (جلد 15) — Page 439
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کسی کو حکم دے اسے بادشاہ کہہ دیا جائے ۔ انگریزی میں لطیفہ مشہور ہے کہ ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا کہ ابا جان بادشاہ کس کو کہتے ہیں؟ باپ کہنے لگا بادشاہ وہ ہوتا ہے جس کی بات کو کوئی رڈ نہ کر سکے ۔ بچہ یہ سن کر کہنے لگا کہ ابا جان پھر تو ہماری اماں جان بادشاہ ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے وہ باپ زن مرید ہو گا۔ تبھی اس کے بچہ نے کہا کہ اگر بادشاہ کی یہی تعریف ہے تو یہ تعریف تو میری والدہ پر صادق آتی ہے۔ غرض حکومت کا ایک خاص دائرہ ہوتا اور اور ج حکومت کیلئے ضروری شرائط ہم تسلیم کریں گے کہ فلاں حکومت ہے تو اس نہیں چند شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہوگا جن میں سے بعض یہ ہیں :۔ (1) حکومت کیلئے ملکی حدود کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی جو نظام بھی رائج ہو اس کی ایک حد بندی ہو گی اور کہا جا سکے گا کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک اس کا اثر ہے ۔ گو یا ملکی حد و حکومت کا ایک جُزوِ لَا يَنْفَكَ ہے۔ (۲) حکومت کو افراد کی مالی جانی اور رہائشی آزادی پر پابندیاں لگانے کا اختیار ہوتا ہے ۔ مثلاً حکومت کو اختیار ہے کہ وہ کسی کو قید کر دے، کسی کو اپنے ملک سے باہر نکال دے یا کسی سے جبرا روپیہ وصول کرلے ۔ اسی طرح جانی آزادی پر بھی وہ پابندی عائد کر سکتی ہے۔ مثلاً وہ حکم دے سکتی ہے کہ ہر نوجوان فوج میں بھرتی ہو جائے ۔ یا اگر کہیں والنٹیئروں کی ضرورت ہو تو وہ ہر ایک کو بلا سکتی ہے۔ (۳) تیسرے ، لوگوں پر ٹیکس لگانے اور ٹیکسوں کے وصول کرنے کا بھی اسے اختیار ہوتا ہے۔ اسی طرح ایسے ہی اختیارات رکھنے والے ممالک سے اسے معاہدات کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اسے باہر سے آنے والوں اور باہر جانے والوں پر پابندیاں لگانے کا اختیار ہوتا ہے، اسے تجارت اور لین دین کے متعلق قوانین بنانے کا اختیار ہوتا ہے، اسے قضا کا اختیار ہوتا ہے ،غرض یہ تمام کام حکومت کے سپرد ہوتے ہیں اور اسے اختیار ہوتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ان امور کو سرانجام دے۔ بالخصوص ملکی حدود کا ہونا حکومت کے لئے نہایت ہی ضروری ہے کیونکہ اسی کے ماتحت وہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک رہنے والوں پر ہمارے احکام حاوی ہوں گے اور ان کا فرض ہو گا کہ وہ ان کی اطاعت کریں اس ملکی حد میں چاہے کسی وقت غیر آجائیں ان کے لئے بھی حکومت کے احکام کی اطاعت ضروری ہوگی اور جو اس حد میں سے نکل جائے وہ ایک