انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 409

انوار العلوم جلد ۱۵ " تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے اح ایک شعر کے متعلق میں مختصراً کچھ غرض کرنا چاہتا ہوں۔اس وقت جماعت کی طرف سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں ایک حقیر سی رقم پیش کی جانے والی ہے جس سے حضور کی وہ دُعا کہ دے اس کو عمر و دولت کی قبولیت بھی ظاہر ہو گی۔آج ہم حضور کی خلافت پر چھپیں سال گزرنے پر حضور کی خدمت میں حقیر سی رقم پیش کرتے ہیں اور میں آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ تشریف لا کر یہ رقم حضور کی خدمت میں پیش کریں۔اس کے بعد جناب چوہدری صاحب نے چیک کی صورت میں یہ رقم پیش کی اور کہا حضور اسے قبول فرمائیں اور جس رنگ میں پسند فرمائیں اسے استعمال کریں اور حضور مجھے اجازت دیں کہ میں دوستوں کے نام پڑھ کر سُنا دوں جنہوں نے اس فنڈ میں نمایاں حصہ لیا ہے تا حضور خصوصیت سے ان کے لئے دُعا فرمائیں اور حضور کی اجازت سے جناب چوہدری صاحب نے وہ نام پڑھ کر سنائے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔میں نے جو کہا تھا کہ جس وقت آمین پڑھی جا رہی تھی میرے دل میں ایک تحریک ہوئی تھی وہ دراصل یہ مصرع تھا جس کا ذکر میر صاحب نے کیا ہے مگر چونکہ ابھی تک وہ رقم مجھے نہ دی گئی تھی اس لئے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ پہلے ہی اِس کا ذکر کروں۔اس کے لئے میں سب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری حقیقی دولت تو دین ہی ہے دین کے بغیر دولت کو ئی چیز نہیں اور اگر دین ہو اور دولت نہ ہو تو بھی ہم خوش نصیب ہیں۔مجھے یہ علم پہلے سے تھا کہ یہ رقم مجھے اس موقع پر پیش کی جائے گی اور اس دوران میں میں یہ غور بھی کرتا رہا ہوں کہ اسے خرچ کس طرح کیا جائے لیکن بعض دوست بہت جلد باز ہوتے ہیں اور وہ اس عرصہ میں مجھے کئی مشورے دیتے رہے کہ اسے یوں خرچ کیا جائے اور فلاں کام پر صرف کیا جائے یہ بات مجھے بہت بُری لگتی تھی کیونکہ میں دیکھتا تھا کہ ایک طرف تو اس کا نام تحفہ رکھا جاتا ہے اور دوسری طرف اس کے خرچ کرنے کے متعلق مجھے مشورے دیئے جا رہے ہیں اگر یہ تحفہ ہے تو اس سے مجھے اتنی تو خوشی حاصل ہونی چاہئے کہ میں نے اسے اپنی مرضی سے خرچ کیا ہے۔بہر حال میں اس امر پر غور کرتا رہا ہوں کہ اسے کس طرح خرچ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ اس سے برکاتِ خلافت کے اظہار کا کام لیا جائے۔یہ امر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم