انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 395

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور گویا وہ اس امر کی التجا کر رہا ہے کہ اس پر اوپر کی طرف سے محبت نازل ہو۔ رویا میں میں سمجھتا ہوں کہ وہ بچہ حضرت مسیح علیہ السلام ہیں ۔ یکدم میں نے دیکھا کہ آسمان پھٹ گیا اور اس میں سے عورت کی شکل میں ایک وجود اترا جس نے نہایت خوبصورت رنگوں والا لباس پہنا ہوا تھا۔ ویسے رنگ میں نے آج تک دنیا میں نہیں دیکھے۔ میں نے رویا میں اس کے پر بھی دیکھے اور میں نے دیکھا کہ پر پھیلائے ہوئے وہ آہستہ آہستہ آسمان سے اتر رہی ہے یہاں تک کہ وہ اس بچہ کے پاس پہنچی اور دونوں آپس میں چمٹ گئے ۔ اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ یہ عورت حضرت مریم علیہا السلام ہیں تب میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہؤا Love Creats Love یعنی محبت محبت پیدا کرتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ محبت کے نتیجہ میں محبت پیدا ہوا کرتی ہے۔ ہے۔ محمد محمد رسول رسول اللہ ا اللہ ﷺ نے جب اپنے اپنے صحابہ سے بے نظیر محبت کی تو صحابہ نے بھی اس کے مقابلہ میں وہ عشق دکھایا جس کی کوئی حد نہیں ۔ چنانچہ حسان کا وہ شعر کتنا درد ناک ہے جو آپ کی وفات پر انہوں نے کہا کہ وسام كُنتَ السَّوَادَ لِنَا ظِرِي فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ يُحَاذِرُ کہ اے محمد ! تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا اب تیرے مرنے سے میں تو اندھا ہو گیا مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ۔ میں تو تجھ کو ہی موت سے بچانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ اب جبکہ تو ہی زندہ نہیں رہا تو مجھے کسی اور کی موت کی کیا پر وا ہوسکتی ہے ۔ عل وسه رف اپنے صحابہ تک ہی محدود نہ تھی بلکہ صلى الله پھر رسول کریم ﷺ کی شفقت اور آپ کی محبت صرف اپنے صحار جیسی محبت آپ نے اپنے صحابہؓ سے کی ویسی ہی ہم سے بھی کی ۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے آپ نے اپنے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا ایک دفعہ بڑی ہی محبت اور پیار سے ذکر کیا اور صحابہ سے فرمایا تم تو تو میرے صحابی ہو مگر وہ میرے بھائی ہوں گے۔ صحابیت میں صرف دوستی کا تعلق ہوتا ہے مگر بھائی بھائی میں ایک خونی رشتہ ہوتا ہے ۔ پس آنے والوں کا ذکر آپ نے اس نے سمجھا بعد صلى الله رنگ میں کیا گویا ان کو اپنا رشتہ دار اور بھائی بھائی قرارد رار دے دیا کیونکہ رسول کریم علی نے میں آنے نے والے جب آئیں گے تو ان کو رشک پیدا ہو گا کہ ہمیں کچھ نہ ملا۔ تمام درجات صحابہ نہی لے گئے اس لئے آپ نے بعد میں آنے والوں کے قلوب کی تسلی کے لئے فرمایا کہ تم تو صحابی ہو