انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 375

انوار العلوم جلد ۱۵ مستورات سے خطاب میں فرماتا ہے والّذينَ لا يَشْهَدُونَ الرُّوره مؤمن جھوٹ سے الگ رہتا ہے۔اگر اسے پتہ لگے کہ فلاں نے جھوٹ بولا ہے تو اس کی دوستی چھوڑ دیتا ہے اور وہ کسی جھوٹے سے تعلق نہیں رکھتا۔اور گو اس تعلیم کے مرد بھی مخاطب ہیں مگر عورتیں اس کی زیادہ مخاطب ہیں۔اسی وجہ سے بیعت کی شرطوں میں اب جھوٹ سے بچنے کے عہد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔پہلے بیعت کے الفاظ یہ تھے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گی مگر اب اس کے ساتھ یہ زیادہ کر دیا گیا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گی۔پس تم اپنے دلوں میں یہ اقرار کرو کہ جھوٹ نہیں بولوں گی۔جھوٹ کے یہ معنی نہیں کہ تم ہر ایک کو اپنی بات بتلاؤ۔مثلاً اگر کسی چور کی بیوی تمہارے پاس راز لینے آتی ہے تو تم اس سے کہہ سکتی ہو کہ میں نہیں بتاتی جاؤ نکل جاؤ۔یہ جھوٹ نہیں ہو گا لیکن یہ ضرور جھوٹ ہوگا کہ تم اسے اصل جگہ چھپا کر دوسری جگہ بتاؤ۔پس آج تمام احمدی عورتیں کان کھول کر سن لیں کہ عورت کی بیعت میں یہ عہد شامل ہے اور جو جھوٹ بولے گی وہ خود اپنی بیعت کی شرط کو توڑنے والی قرار پائے گی۔واِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا پھر مؤمن کی یہ علامت بتلائی کہ جب وہ کوئی لغو بات دیکھتا ہے تو اس کے پاس سے گزر جاتا ہے لیکن یہ بات نہایت ہی افسوسناک ہے کہ عورت ہمیشہ لغویات کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔مثلاً بلا وجہ دوسری سے پوچھتی رہتی ہے کہ یہ کپڑا کتنے کالیا، یہ زیور کہاں سے بنوایا اور جب تک اس کی ساری ہسٹری معلوم نہ کر لے اسے چین نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔اس نے تنگ آ کر اپنے گھر کو آگ لگا دی۔لوگوں نے پوچھا کچھ بچا بھی ؟ اس نے کہا سوائے اس انگوٹھی کے کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے پوچھا بہن تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی؟ یہ تو بہت خوبصورت ہے۔وہ کہنے لگی اگر یہی بات تم پہلے پوچھ لیتیں تو میرا گھر کیوں جاتا۔یہ عادت عورتوں سے ہی مخصوص نہیں بلکہ مردوں میں بھی ہے۔السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کے بعد پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں جاؤ گے؟ کیا کام ہے؟ آمدنی کیا ہے؟ بھلا دوسرے کو اس معاملہ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ انگریزوں میں یہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ تو کہاں ملازم ہے؟ تعلیم کتنی ہے؟ تنخواہ کیا ملتی ہے؟ وہ کبھی کریدنے کا خیال نہیں کرتے۔غرض عورتوں میں یہ لغویت انتہاء درجہ کی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مؤمن لغو کام نہیں کرتا