انوارالعلوم (جلد 15) — Page 366
انوار العلوم جلد ۱۵ احمدیت زندہ ہے زندہ رہے گی۔۔سامان کر دیئے ہیں اور احمدیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور نئے نئے ممالک میں احمدی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں۔سیرالیون سے جو مغربی افریقہ میں ہے حال ہی میں اطلاع موصول ہوئی ہے، اس کے متعلق کسی قدر تفصیلی حالات تو اگلے لیکچر میں بیان کروں گا اتنا بیان کر دینا اِس وقت مناسب ہے کہ اس جگہ سال بھر سے ایک مبلغ بھیج دیا گیا تھا۔وہاں شروع میں حکومت نے بھی مخالفت کی اور غیر مبائعین کا اثر بھی ہمارے خلاف کام کر رہا تھا مگر پرسوں وہاں کے مبلغ کی طرف سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ وہاں کے دور میں پانچ سو آدمیوں کے ساتھ احمدی ہو گئے ہیں تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے يَدْخُلُونَ فِي دِینِ اللہ افواجالے کے نظارے دکھا رہا ہے اور ابھی یہ کیا ہے۔پنجابی میں جسے ونگی سے کہا جاتا ہے۔وہ یہ ہے یعنی ایک دُکاندار کے پاس جاؤ تو وہ نمونہ کے طور پر تھوڑی سی چیز دکھاتا ہے کہ دیکھو کیسی اچھی ہے۔پس یہ تو ؤنگی ہے جو اللہ تعالیٰ جماعت کو دکھا رہا ہے ورنہ جماعت کیلئے بہت بڑی بڑی فتوحات مقدر ہیں جو ضرور حاصل ہوں گی۔پس آؤ! دین کی خدمت کرنے کا مخلصانہ وعدہ کرو اور پھر دیکھو کہ کس طرح خدا تعالیٰ کے فضل کے خزانے تمہارے لئے کھولے جاتے ہیں۔میں اس وقت جلسہ کا افتتاح کرنے کیلئے آیا ہوں۔میں پروگرام میں مقرر کردہ وقت پر آنے کے لئے تیار تھا مگر افسوس ہے کہ سٹیج تیار نہ ہونے کی وجہ سے دیر سے افتتاح کرنا پڑا۔ذمہ وار افسروں کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے اس قسم کی غلطیوں سے بچیں۔بہر حال اس وقت میں جلسہ کا افتتاح کرتا ہوا اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس نے اپنی رحمتیں اور افضال جو اس وقت تک کئے آئندہ ان سے بڑھ کر فرمائے تا کہ ہماری حقیر کوششیں بار آور ہوں۔اور ہم اس کے فضلوں کے پہلے سے زیادہ مور د ہوں وہ ہماری کوششوں میں برکت دے تا کہ دنیا کے کناروں تک اسلام اور احمدیت پھیل جائے اور احمدیت کو ہر جگہ غلبہ اور شوکت عطا فرمائے۔پھر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نہ دے کہ جب ہم میں طاقت اور غلبہ آئے تو ہم ظالم بن جائیں یا سست اور عیش پرست ہو جائیں بلکہ پہلے سے زیادہ متواضع ، پہلے سے زیادہ رحم دل اور پہلے سے زیادہ اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کیلئے خرچ کرنے والے ہوں۔مسیح کا یہ کہنا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں سے گزر جانا آسان ہے لیکن دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے غلط ہے۔اسلام یہ کہتا ہے کہ عزت اور شوکت اور غلبہ اور طاقت چاہو اور خدا تعالیٰ جو دنیوی انعامات دے ان کو قبول کرو لیکن اس عزت ، اس دولت اور اس طاقت کو خدا کے لئے اور