انوارالعلوم (جلد 15) — Page 360
انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب وجہ سے دل اس سے ایسا پیوست ہو جاتا ہے کہ انسان کو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس کی دُعا ضرور سنی جائے گی اور جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے تو پھر سامانوں کی کمی وغیرہ سے گھبراہٹ کی ضرورت نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس کے لئے ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے سامان خود بخود پیدا کر دیتا ہے۔یہی مصری کا فتنہ جب شروع ہوا تو میرے دل میں ایک کرب تھا اور جماعت کے لوگوں میں بھی ایک ہیجان تھا کیونکہ وہ مدرسہ احمدیہ کا ہیڈ ماسٹر تھا۔رات کو جب میں سویا تو میں نے خواب دیکھا کہ کوئی فرشتہ ہے یا انسان ہے وہ دوڑا ہوا میرے پاس آیا اور کہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں تب میں نے سمجھا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہے اور اس وجہ سے مجھے تکلیف میں دیکھ کر آپ برداشت نہیں کر سکے کہ میں اکیلا رہوں تب میں سمجھا کہ گو یہ بڑا آدمی ہے مگر مجھے اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا کون ہو سکتا ہے۔پس یا درکھو کہ کامیابی کیلئے یہ چیز بہت ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ پر تو کل ہو۔پھر اس یقین کی ضرورت ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گا اور جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے اسے گھبرانے کی کیا ضرورت اور اسے کسی انسان کی طرف سے ہمت اور حوصلہ دلانے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض نادان اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ایسے مواقع پر مجھے حوصلہ دلاتے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بچہ فوت ہوا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اس پر ایک نادان نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ! صبر کریں حالانکہ وہ بے صبری کی بات نہ تھی بلکہ ایک ترقم کی کیفیت تھی جو بالکل اور چیز ہے۔اسی طرح مجھے یاد ہے جب میری بیوی امتہ الحی فوت ہوئیں تو بہت عرصہ تک یہ حالت تھی کہ میں جب ان کا ذکر کرتا تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔اس پر ایک شخص نے جواب تو مولوی ہے مگر اُس وقت طالب علم تھا مجھے لکھا کہ آپ صبر سے کام لیں۔مجھے خیال آیا کہ اس بے چارہ کو کیا علم ہے کہ صبر کیا چیز ہے۔اللہ تعالیٰ کے بندے اس ترحم کی کیفیت کے علاوہ ایسے دلیر ہوتے ہیں کہ ان کو کسی کی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اُن کو یقین ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔غار ثور میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر کے ساتھ چھپے ہوئے تھے اور دشمن نے آ کر اس کا احاطہ کر لیا تو حضرت ابوبکر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا تحزن إن الله معنا کے اس واقعہ میں دونوں کے عشق کا کیا عجیب نظارہ ہے۔