انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 359

انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ اگر ساری جماعت بھی پھر جائے تو اے خدا! میں وہ تعلیم جو تو نے دے کر آپ کو مبعوث کیا تھا تنِ تنہا ساری دنیا میں پھیلاؤں گا اور میں ہمیشہ اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے منہ سے کہلوا دیئے۔اُس عمر میں اور ایسے حالات میں ایسی بات بالکل غیر معمولی ہے۔جب قرآن وحدیث پڑھا جا رہا ہو اور ایسی باتیں ہو رہی ہوں اُس وقت ایسی بات کہہ دینا کوئی غیر معمولی نہیں لیکن مصیبت کے وقت تو بڑی بڑی ہمت والے لوگ بھی ایک دوسرے سے گلے مل مل کر روتے ہیں۔یہ وہ وقت نہیں تھا کہ جب کوئی خوشی کے واقعات سنا رہا ہو۔ایسے واقعات سن کر تو ایک نو جوان کے دل میں جوش پیدا ہوسکتا ہے اور وہ ایسی بات کہہ سکتا ہے لیکن وہ وقت ایسا تھا جب بظاہر ہمارے لئے دینی ودنیوی دونوں ٹھکانے کوٹ رہے تھے اور امید کی بجائے مایوسی کی گھٹائیں چھا رہی تھیں اُس وقت میری زبان سے ایسا اقرار یقینا اللہ تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت تھا۔پس خدام الاحمدیہ اس بات کو ہمیشہ یا درکھیں کہ جب تک ہر ایک یہ نہ سمجھے کہ اس کام کا ذمہ دار میں ہی ہوں اور کوئی نہیں اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس اپنے اندر یہ روح پیدا کرو اور پھر خدا تعالیٰ پر توکل رکھو کہ وہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔میرا یہ ہمیشہ کا تجربہ ہے کہ جب یہ تو گل پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب کر دیتا ہے اس کے ساتھ کامیابی کے لئے دعائیں کرنا بھی ضروری ہے اور جب دُعا کرنے کے ساتھ یہ یقین ہو جائے کہ یہ قبول ہو گئی ہے تو وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا وقت جب قریب تھا تو میں کو ٹھے کی چھت پر دُعا کے لئے گیا۔اُس وقت مجھے شدید فکر اور غم بھی تھا مگر دُعا کیلئے میرے اندر وہ جوش پیدا نہ ہوا جس کے نتیجہ میں یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ دُعا قبول ہو گئی ہے۔میں بہت دیر تک کوشش کرتا رہا مگر وہ حالت پیدا نہ ہوئی۔اس پر مجھے خیال پیدا ہوا کہ شاید میرے دل میں منافقت ہے کہ جس کی وجہ سے جوش دُعا کیلئے پیدا نہیں ہوتا۔اس پر میں نے اپنے لئے دُعا شروع کی تو اس میں بہت جوش پیدا ہوا اور اُس وقت میرے دل میں یہ القاء ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں میری دُعا قبول ہو اس لئے وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔تو دُعا کے ساتھ ایسی کیفیت اگر پیدا ہو جائے کہ انسان سمجھے یہ دُعا ضرور قبول ہو جائے گی تو وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے انسان کو جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہو جائے اور وہ سمجھے کہ میری دُعا وہ ضرور قبول کرے گا تو انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک قسم کا وائر لیس کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کامل تو شکل کی