انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 355

انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب حاصل کر کے آئے یہاں علمی ترقی نہ ہو سکے گی مگر انجمن نے ہمیشہ مالی مشکلات کا عذر پیش کیا۔میں نے چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ کچھ بوجھ آپ اُٹھائیں اور کچھ میں اُٹھاتا ہوں اور ایک آدمی مصر بھیجا جائے۔وہ آمادہ ہو گئے اور میں نے شیخ عبد الرحمن مصری کو جواب مرتد ہو چکے ہیں مصر بھیج دیا کہ وہاں سے عربی کی تعلیم حاصل کر کے آؤ تا سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچے۔ہم دو چار آدمیوں نے ہی مل کر ان کے لئے کرایہ وغیرہ کا انتظام کر دیا۔وہ اُس وقت ملا زم تھے اس لئے تنخواہ یہاں بال بچوں کو ملتی رہی اور وہاں کے اخراجات میں بھجوا تا رہا۔اس کام کے لئے انجمن مدتوں سوچتی رہی مگر میں نے خیال کیا کہ اگر یہ بات اچھی ہے تو میں اسے شروع کر دیتا ہوں اللہ تعالیٰ خود تکمیل تک پہنچا دے گا اور یہ میرے کام اس وقت کے ہیں جب میں ابھی بچہ تھا۔خدام الاحمدیہ کے بہت سے ممبروں کے لحاظ سے میں بچہ تھا۔اس کی ممبری کے لئے چالیس سال تک عمر کی شرط ہے مگر میری عمر اُس زمانہ میں ۲۲ ،۲۳ سال ہو گی اور کئی کام تو اس سے بھی پہلے زمانہ کے ہیں۔اس زمانہ میں چودھری فتح محمد صاحب اور بعض دوسرے نو جوان سکولوں اور کالجوں میں پڑھا کرتے تھے۔میری آنکھوں میں لکرے ہو گئے تھے اس لئے میں نے سکول میں پڑھنا چھوڑ دیا تھا اور حضرت خلیفہ امسیح الاوّل سے طب اور بخاری پڑھا کرتا تھا۔ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب بڑے تبلیغ کرتے ہیں تو ہم کیوں نہ کریں اور اس کے لئے کیا ذریعہ اختیار کریں۔آخر ہم نے فیصلہ کیا کہ جس طرح رسالہ ریویو نکلتا ہے ہم بھی ایک رسالہ جاری کریں۔سب نے مجھ سے کہا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت حاصل کریں اور نام بھی رکھوائیں۔آپ نے اجازت دے دی اور تفخیذ الا ذبان نام رکھا۔اب اس کے اخراجات کا سوال تھا۔ہم نے فیصلہ کیا جو جیب خرچ ملتا ہے اس میں سے ایک ایک روپیہ چندہ دیں گے۔پہلے سات ممبر تھے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا کہ سہ ماہی رسالہ نکالا جائے۔مضمون تو ہم خود لکھ لیں گے پیکٹ وغیرہ بھی خود بنالیں گے۔اندازہ کیا گیا تو ۲۵ ،۳۰ روپیہ خرچہ کتابت اور طباعت وغیرہ کا تھا۔ہم نے سوچا کہ کوئی نہ کوئی خریدار بھی تو مل ہی جائے گا۔پہلے دو تین پر چے ہم نے خود اپنے ہاتھ سے پیک وغیرہ کئے ٹکٹ لگائے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے اسے جلد ہی ترقی حاصل ہوگئی۔تو رسالہ کا نکالنا کوئی معمولی بات نہیں مگر میں نے اسے شروع کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ چل نکلا گو بعد میں میں نے ہی اسے رسالہ ریویو میں مدغم کر دیا کیونکہ ریویو کی حالت اچھی نہ تھی اور میں چاہتا تھا کہ ساری توجہ اسی کی طرف ہو۔کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام