انوارالعلوم (جلد 15) — Page 325
انوار العلوم جلد ۱۵ قومی درہم برہم ہو جاتا ہے۔سیر روحانی تقریر (۱) دیکھو! کس خوبی سے اول نظام عالم کی حقیقت بیان کی ہے اور پھر نظام انسانی کو اس پر چسپاں کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے بابلیوں نے اور ان کے بعد یونانیوں نے نظام شمسی پر نظام تمدن کو ڈھالنے کی کوشش کی ہے مگر جس خوبی ، جس اختصار اور جس ہمہ گیری کے ساتھ قرآن کریم نے چند مختصر الفاظ میں ان دونوں نظاموں کی حقیقت اور مماثلت کو بیان کیا ہے اس کی نظیر ان اقوام عالم کے فلاسفروں کے کلام میں نہیں پائی جاتی۔اور مسائل بھی عالم ہیئت کے قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں مگرا جمالاً انہیں امور پر کفایت کی جاتی ہے۔(۳) ایک وسیع اور عظیم الشان سمندر تیسری چیز جو میں نے دیکھی تھی سمندر تھا، میں نے اُس وقت اپنے دل میں کہا کہ ایک اور سمندر قرآن نے پیش کیا ہے مگر افسوس کہ لوگ اسے بھول گئے ہیں وہ اس کی طرف سے ہنس کر گزر جاتے بلکہ اُسے حقیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ سمندر خود ہماری کتاب قرآن کریم ہے۔سمندر کیا ہوتا ہے؟ سمندر کے معنے ایک ایسی وسیع چیز کے ہیں جس کا کنارہ نظر نہیں آتا اور جس میں موتی ، مونگا اور اسی قسم کی اور بیسیوں قیمتی چیزیں ہوتی ہیں۔میں نے دیکھا کہ اسی قسم کی ایک چیز ہمارے پاس بھی ہے مگر افسوس کہ ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ہم موتی نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں ، ہم مونگا نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں ، ہم مچھلیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں ، ہم مچھلیوں کا تیل نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں، ہم سیپیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں ، ہم کو ڑیاں نکالنے والوں کی قدر کرتے ہیں ، مگر ہم نہیں قدر کرتے تو اُس شخص کی جو قرآن کریم کے سمندر میں سے قیمتی موتی نکال کر ہمارے سامنے پیش کرے، حالانکہ یہ وہ سمندر ہے کہ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ونزلنا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلّ شَيْء وهُدًى وَرَحْمَةٌ وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ - ٤٥ یعنی اے رسول! ہم نے تجھ پر وہ کتاب نازل کی ہے جو تبيانا لكُل شَيْءٍ ہے جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے اور جس کا کوئی کنارہ ہی نہیں۔اس میں موتی بھی ہیں ، اس میں مونگے بھی ہیں ، اس میں ہیرے بھی ہیں ، اس میں جواہرات بھی ہیں، غرض خشکی اور ترکی کی تمام نعمتیں اس میں جمع ہیں جب بھی تمہیں کسی چیز