انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 312

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) جو غور کیا تو اپنے سامنے رات والا پادری بیٹھا دیکھا اور حیرت سے پوچھا کہ تم یہاں کہاں؟ اس نے کہا کہ رات کو ہم نے تم میاں بیوی کو یہ کہتے ہوئے سن پایا تھا کہ موٹے کو صبح ذبح کر دینگے اور ڈ بلے کو کچھ دن کھلا پلا کر۔اس لئے ہم کھڑکی سے گود کر بھاگے اور میرا چونکہ پاؤں چوٹ کھا گیا تھا میں اِس سؤرخانہ میں چُھپ کر بیٹھ گیا اور میرا ساتھی فوج کی مدد لینے گیا ہے۔اس پر قصاب نے بے اختیار ہنسنا شروع کیا اور بتایا کہ ان کے دوسو ر ہیں ایک موٹا اور ایک ڈبلا۔وہ تو ان سؤروں میں سے موٹے کے ذبح کرنے کی تجویز کر رہے تھے اور آہستہ آہستہ اس لئے بول رہے تھے کہ مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو۔اتنے میں سرکاری سوار بھی آگئے اور اس حقیقت کو معلوم کر کے سب ہنستے ہنستے لوٹ گئے۔یہی حال ستارہ پرستوں کا ہے۔اللہ میاں نے ان کو انسانوں کی خدمت کے لئے مقرر کیا ہے اور وہ انسان کی خدمت کر رہے ہیں مگر انسان ہے کہ اُن کے آگے ہاتھ جوڑ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ خدا کے لئے ہم پر رحم کرو۔گویا ستارے اس کے غلام بن رہے ہیں اور یہ اُن کا غلام بن رہا ہے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں بیان کی ہے کہ ان في ذلك لايت لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ یہ سب انسانوں کے خدمت گزار تو ہیں مگر انہی کے لئے جو ان امور کو دیکھیں اور عقل اور سمجھ سے کام لیں ایسے لوگ کبھی بھی ان کو خدائی صفات والا قرار نہیں دے سکتے۔ہاں اگر کوئی اس فرانسسکن (FRANCISCAN) پادری کی طرح بلا وجہ ڈر کر ہاتھ جوڑنے لگ جائے تو اور بات ہے۔(۲) دوسری بات مجھے یہ سب اجرام فلکی ایک عالمگیر قانون کے تابع ہیں! معلوم ہوئی کہ سورج چاند اور ستارے سب ایک عالمگیر قانون کے ماتحت چل رہے ہیں اور اس امر کا ثبوت ہیں کہ ایک زبر دست ہستی ان سب پر حاکم ہے، چنانچہ میں نے قرآن کریم کو دیکھا تو وہاں یہ لکھا ہو ا تھا کہ الم تر انّ الله يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَوتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ والقمر والنجوم والجبال والشَّجَرُ وَالدَّوَاتُ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاس و كَثِيرُ حَقٌّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ، وَ مَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِم ، إن الله يفعل مايشاء 1 یعنی اے بیوقوفو! کیا تمہیں معلوم نہیں آسمان اور زمین میں be جو کچھ ہے اور سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور انسانوں میں سے بھی بہت سے لوگ سب خدا تعالیٰ کی اطاعت میں لگے ہوئے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے لئے