انوارالعلوم (جلد 15) — Page 3
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی تار جلسہ میں شامل ہونے والے اصحاب کو السَّلامُ عَلَيْكُمُ کہا اور درخواست دعا کی تھی پھر فرمایا:-) میاں عزیز احمد صاحب کے میں اپنا مضمون شروع کرنے سے پہلے کچھ اور باتیں بھی کہنا چاہتا ہوں ایک تو یہ ہے کہ کل ایک متعلق دو سوالات کے جواب دوست نے لیکچر کی حالت میں مجھے ایک رقعہ دیا۔چونکہ لیکچر دیتے وقت میں زیادہ تر کوشش یہی کرتا ہوں کہ رفتے نہ پڑھوں کیونکہ اس طرح لیکچر بالکل خراب ہو جاتا ہے اس لئے میں نے اُسے اُس وقت نہ پڑھا بلکہ بعد میں پڑھا۔اس میں میری اُس تقریر کے متعلق جو گل میں نے مصری صاحب کے متعلق کی ہے دو سوالات درج تھے۔کوئی محمد عبد اللہ صاحب ہیں جنہوں نے وہ رقعہ لکھا۔بہر حال ایک بات انہوں نے یہ کھی ہے کہ آپ کی طرف سے اعلان تھا کہ اگر کسی شخص نے کوئی خلاف قانون حرکت کی اور شرارت اور فساد پیدا کیا تو میں اُسے جماعت سے خارج کر دوں گا مگر باوجود اس اعلان کے عزیز احمد جس کے ہاتھوں فخر الدین ملتانی قتل ہوا اب تک جماعت میں موجود ہے اور اسے جماعت سے خارج نہیں کیا گیا اس کی کیا وجہ ہے؟ دوسرے اگر یہ اعلان صحیح تھا تو عزیز احمد کی طرف سے احمدی وکیل پیروی کیوں کرتے رہے ہیں؟ معلوم ہوتا ہے یہ دوست اگر مبائعین میں سے ہیں تو نہ انہوں نے کبھی میرے خطبے پڑھے ہیں اور نہ انہیں قانون کی کوئی واقفیت ہے اور اگر ہماری جماعت کے یہ دوست نہیں تو خیر دوسرے لوگ ہم پر اعتراض کیا ہی کرتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ کوئی عجیب بات نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ وہ اعلان جس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ جب اُس میں کہا گیا تھا کہ:۔اگر کسی احمدی کی نسبت ثابت ہوا کہ وہ فساد کرتا یا اس میں شامل ہوتا ہے تو اُسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا لے وہ میاں عزیز احمد کے فعل کے ایک دن بعد کا ہے اور اس میں صاف لکھا ہوا ہے کہ یہ ہدایت آئندہ کے متعلق ہے۔چنانچہ میرے اعلان کے الفاظ یہ ہیں کہ :۔آئندہ کیلئے دوستوں کو پھر ہدایت کر دینی چاہتا ہوں کہ وہ اپنے نفسوں کو یری طرح قابو میں پوری طرح قابو میں رکھیں اور انتہائی اشتعال کے وقت بھی اپنے جذبات کو دبائے رکھیں۔