انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 2

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ انقلاب حقیقی ( تقریر فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ء بر موقع جلسہ سالانہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ اؤڈ سپیکر کی ایجاد آج میری آواز تو اپنی بیٹی ہوئی ہے کہ شاید لاؤڈ سپیکر کے بغیر دوستوں تک آواز کا آواز پہنچنی مشکل ہو جاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جو اشاعت کا زمانہ ہے اور جہاں گلے کا سب سے زیادہ خرچ ہوتا ہے اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے یہ ایجاد کر دی ہے جس پر ہم جس قدر بھی اس کا شکر بجالائیں کم ہے۔ انگریزی میں گلے کی تکلیف کو کلرجی مینز تھروٹ (CLERGYMAN'S THROAT) کہتے ہیں یعنی پادریوں کے گلے کی تکلیف ۔ اور پادری صرف اتوار کے دن نہایت مدھم سی آواز میں پندرہ بیس یا تیس منٹ ہی تقریر کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس ہفتہ کی ایک تقریر کی وجہ سے وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کے گلے کی خراش کا نام ہی پادریوں کے گلے کی خراش رکھ دیا جائے ۔ پھر اُن لوگوں کا کیا حال ہے جنہیں ضرورت کے ماتحت چھ چھ گھنٹے بھی تقریریں کرنی پڑتی ہیں اور جن کے جمعہ کا ایک خطبہ بسا اوقات پادریوں کے مہینوں کی تقریروں سے بڑھ جاتا ہے۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایجاد ہم لوگوں کیلئے ہی کی ہے جن کے گلوں پر ان تقریروں کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے۔ دوستوں کے تار پیشتر اس کے کہ میں اپنا آج کا مضمون شروع کروں بعض دوستوں کی تاروں کا مضمون پڑھ کر سنا دیتا ہوں جنہوں نے مجھ سے اور تمام دوستوں سے خواہش کی ہے کہ ان ایام کی دعاؤں میں انہیں شامل رکھا جائے ( اس کے بعد حضور نے ہندوستان کے مختلف علاقوں اور بیرون ہند کے ان اصحاب کے نام سنائے جنہوں نے بذریعہ