انوارالعلوم (جلد 15) — Page 280
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ہیں میں نے سمجھا اس بادشاہ نے حملہ کر دیا ہے چنانچہ میں فوراً اپنا کپڑا سنبھالتا ہوا باہر نکلا اور میں نے اُس سے پوچھا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا ہے۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں گھبرا کر مدینہ کی طرف چل دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ سے عرض کیا یا رَسُولَ اللَّهِ! آپ اپنے گھر سے باہر آ گئے ہیں آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ کہتے ہیں آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں میں نے کسی کو طلاق نہیں دی۔میں نے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ - پھر میں نے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! آپ کو میں ایک بات سناؤں ؟ آپ نے فرمایا ہاں سناؤ ، میں نے کہا ، يَارَسُولَ اللَّهِ ! ہم لوگ مکہ میں اپنے سامنے عورت کو بات نہیں کرنے دیتے تھے ، لیکن جب سے میری بیوی مدینہ میں آئی ہے وہ بات بات میں مجھے مشورہ دینے لگ گئی ہے ایک دفعہ میں نے اُسے ڈانٹا کہ یہ کیا حرکت ہے اگر پھر بھی تو نے ایسی حرکت کی تو میں تجھے سیدھا کر دونگا تو وہ مجھے کہنے لگی، تو بڑا آدمی بنا پھرتا ہے میں نے تو دیکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ کو مشورہ دے لیتی ہیں، پھر کیا تو ان سے بھی بڑا ہے کہ مجھے بولنے نہیں دیتا اور ڈانٹتا ہے۔میں نے کہا ہیں ! ایسا ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگی ہاں واقعہ میں ایسا ہوتا ہے۔میں نے کہا تب میری بیٹی کی خیر نہیں۔یہ بات سُن کر میں اپنی بیٹی کے پاس گیا اور اُسے کہا دیکھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی بات نہیں کرنی۔اگر تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوال جواب کیا تو وہ کسی دن مجھے طلاق دیدیں گے۔حضرت عائشہ پاس ہی تھیں وہ میری بات سن کر بولیں تو کون ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے معاملات میں دخل دینے والا ، چلو یہاں سے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سُن کر ہنس پڑے اور آپ کا غصہ جاتا رہا ہے اور حضرت عمرؓ کی بھی اس واقعہ کے سنانے سے یہی غرض تھی کہ کسی طرح آپ ہنس پڑیں اور آپ کی ناراضگی جاتی رہے۔تو بعض قوموں میں یہ رواج ہے کہ وہ مجھتی ہیں عورت کا یہ حق نہیں کہ وہ مرد کے مقابلہ میں بولے مگر عورت ہے کہ وہ بولے بغیر رہ نہیں سکتی۔اسے کوئی بات کہو وہ اس میں اپنا مشورہ ضرور پیش کر دے گی کہ یوں نہیں یوں کرنا چاہئے ، پھر خواہ تھوڑی دیر کے بعد وہ مرد کی بات ہی مان لے مگر اپنا پہلو کچھ نہ کچھ اونچا ہی رکھنا چاہتی ہے اور مرد کے مشورہ پر اپنی طرف سے پالش ضرور کرنا چاہتی ہے۔