انوارالعلوم (جلد 15) — Page 279
انوار العلوم جلد ۱۵ میں وہ اپنی حکومت کا راز مستور پاتی ہے۔سیر روحانی تقریر (۱) تمدنی ترقی کا ایک عظیم الشان گر غرض خُلقن من ضلع کے یہی معنے ہیں کہ عورت مرد پر اعتراض ضرور کرتی رہے گی ، ان میں محبت بھی ہو گی ، پیار بھی ہوگا ، تعاون بھی ہوگا ، قربانی کی روح بھی ہوگی ، مگر روزمرہ کی زندگی میں ان میں آپس میں نوک جھوک ضرور ہوتی رہے گی اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو اگر سیدھا کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ، یعنی اگر تم چا ہو کہ وہ تمہاری بات کی تردید نہ کرے تو اُس کا دل ٹوٹ جائیگا ، اسے اعتراض کرنے دیا کرو کیونکہ عورت کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اگر تم بالکل ہی اُس کی زبان بندی کر دو گے تو وہ جانور بن جائے گی اور عقل اور فکر کا مادہ اُس میں سے نکل جائے گا۔یہ تمدن کا ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا۔آپ کا اپنا عمل بھی اس کے مطابق تھا، چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں سے کسی بات پر ناراض ہو کر گھر سے باہر چلے گئے اور آپ نے باہر ہی رہائش اختیار کر لی۔حضرت عمر کی لڑکی چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیاہی ہوئی تھیں اس لئے انہیں بھی یہ اطلاع پہنچ گئی۔حضرت عمرؓ کا طریق یہ تھا کہ آپ مدینہ میں نہیں رہتے تھے بلکہ مدینہ کے پاس ایک گاؤں تھا وہاں آپ رہتے اور تجارت وغیرہ کرتے رہتے ، انہوں نے ایک انصاری سے بھائی چارہ ڈالا ہوا تھا اور آپس میں انہوں نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ انصاری مدینہ میں آجاتا اور مدینہ کی اہم خبریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سُن کر حضرت عمرؓ کو جا کر سُنا دیتا اور کبھی حضرت عمرؓ مدینہ آ جاتے اور وہ انصاری پیچھے رہتا اور آپ اُس کو باتیں بتا دیتے ، غرض جو بھی آتا وہ تمام باتیں معلوم کر کے جاتا اور دوسرے کو بتاتا کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ الہام ہوا ہے۔آج آپ نے مسلمانوں کو یہ وعظ فرمایا ہے غرض اس طرح ان کی دینی تعلیم بھی مکمل ہو جاتی اور ان کی تجارت بھی چلتی رہتی۔ایک دن وہ انصاری مدینہ میں آیا ہوا تھا اور حضرت عمر پیچھے تھے کہ عشاء کے قریب اُس انصاری نے واپس جا کر زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور کہا کہ ابن خطاب ہے؟ ابن خطاب ہے؟ حضرت عمرؓ کہتے ہیں، میں نے جب اُس کی گھبرائی ہوئی آواز سنی اور اُس نے زور سے میرا نام لے کر دروازہ کھٹکھٹایا تو میں نے سمجھا کہ مدینہ میں ضرور کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔اُن دنوں یہ افواہ زوروں پر تھی کہ ایک عیسائی بادشاہ مدینہ پر حملہ کرنے والا ہے، حضرت عمرؓ کہتے