انوارالعلوم (جلد 15) — Page 263
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) معنی گندمی رنگ کے ہیں۔پس آدم کے معنے سطح زمین پر رہنے والے یا گندمی رنگ والے کے ہیں اور دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے کیونکہ کھلی ہوا اور زمین پر رہنے کی وجہ سے دھوپ کے اثر سے اس کے رنگ پر اثر پڑا۔حقیقت یہ ہے کہ جب آدم کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے تمدن کی بنیاد رکھی تو اُس وقت آدم اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بجائے زمین کی غاروں میں رہنے کے ہمیں سطح زمین کے اوپر رہنا چاہئے اور پندرہ پندرہ بیس ہیں گھروں کا ایک گاؤں بنا کر اس میں آباد ہو جانا چاہئے اس سے پہلے تمام انسان غاروں میں رہتے تھے اور چونکہ سطح زمین پرا کیلے اکیلے رہنے میں خطرہ ہوسکتا تھا کہ کوئی شیر یا چیتا حملہ کرے اور انسانوں کو پھاڑ دے اس لئے وہ آسانی کے ساتھ سطح زمین پر رہنے کو برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ تبھی سطح زمین پر رہنا برداشت کر سکتے تھے جب کہ بہت سے آدمی ایک جگہ اکٹھے ہوں اور وہ متحدہ طاقت سے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں مگر یہ صورت اُسی وقت ہوسکتی تھی جب انسانوں میں اکٹھا رہنے کی عادت ہو اور وہ ایک قانون اور نظام کے پابند ہوں۔جب تک وہ ایک نظام کے عادی نہ ہوں ، اُس وقت تک اکٹھے کس طرح رہ سکتے تھے۔پس اُس وقت آدم اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم آئندہ غاروں میں نہیں رہیں گے بلکہ کھلے مکانوں میں رہیں گے اور چونکہ انہوں نے باہر سطح زمین پر رہنے کا فیصلہ کیا اس لئے ان کا نام آدم ہو ا یعنے سطح زمین پر رہنے والے۔اور کھلی ہوا میں رہنے کا یہ لازمی نتیجہ ہوا کہ ان کا رنگ گندمی ہو گیا۔پس آدم اس کا نام اس لئے رکھا گیا کہ وہ کھلی زمین میں مکان بنا کر ر ہنے لگا اورکھلی زمین پر رہنے کے سبب سے اس کا جسم گندمی رنگ کا ہو گیا جیسا کہ سورج کی دُعائیں پڑنے سے ہو جاتا ہے اور ادیم اور اُڈ مہ جو لفظ آدم کے مادے ہیں ان دونوں کا مفہوم بھی ایک ہی ہے یعنی گھلی ہوا اور زمین پر رہنے کی وجہ سے اس کے رنگ پر اثر پڑا۔زمانہ آدم کی تمدنی حالت اس آدم کے زمانہ میں از ما بشری د وراؤول کے زمانہ کے بھی کچھ لوگ تھے جو تمدنی قوانین کی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور لازماً وہ سطح زمین پر سہولت سے نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ جو طاقت مجموعی طاقت سے مل سکتی ہے اور جو انسان کو کھلے میدانوں میں رہنے میں مدد دیتی ہے وہ انہیں حاصل نہ تھی پس وہ غاروں میں رہتے تھے جیسا کہ جانور وغیرہ رہتے ہیں اور چونکہ ان میں تمدن نہ تھا ان کے لئے کوئی