انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 262

انوار العلوم جلد ۱۵ آدم سب سے پہلا کامل انسان تھا سیر روحانی تقریر (۱) اس وقت تک جو مضمون بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا عقلی دور دوحصوں میں منقسم تھا ایک حصہ تو وہ تھا کہ اس میں عقل تو تھی مگر انفرادی حیثیت رکھتی تھی حمد نی جس نے ترقی نہ کی تھی اور وہ اکیلے اکیلے یا جوڑوں کی صورت میں زندگی بسر کرتا تھا۔دوسرا دور وہ آیا جبکہ حمد نی جس ترقی کر گئی تھی اور وہ ایک قانون کے تابع ہونے کا اہل ہو گیا یعنی وہ اس بات کیلئے تیار ہو گیا کہ ایک قانون کے ماتحت رہے جب قانون یہ فیصلہ کر دے کہ کسی پر حملہ نہیں کرنا تو ہر ایک کا فرض ہو کہ کسی پر حملہ نہ کرے، جب قانون یہ فیصلہ کر دے کہ فلاں کو یہ سزا ملنی چاہئے تو اس کا فرض ہو کہ وہ اس سزا کو بخوشی برداشت کرے، جب یہ حس اس میں ترقی کر گئی اور وہ قانون کے تابع ہونے کا اہل ہو گیا تو اُس وقت انسانِ کامل بنا اور قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ جب انسانوں کے اندر یہ مادہ پیدا ہو گیا کہ وہ نظام اور قانون کی پابندی کریں اور انسانی دماغ اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تو اُس وقت سب سے پہلا شخص جس کا دماغ نہایت اعلیٰ طور پر مکمل ہوا اس کا نام آدم تھا۔گویا آدم جو خلیفہ اللہ بنا وہ نہیں جس کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اسے مٹی سے گوندھا اور پھر اُس میں پھونک مار کر اُسے یکدم چلتا پھرتا انسان بناد یا بلکہ جب انسانوں میں تمدنی روح پیدا ہوگئی تو اُس وقت جو شخص سب سے پہلے اس مقام کو پہنچا اور جس کے دماغی قوی کی تکمیل سب سے اعلیٰ اور ارفع طور پر ہوئی اُس کا نام خدا تعالیٰ نے آدم رکھا، مگر جب دیر سے ایک طریق چلا آرہا ہو اُس میں تبدیلی لوگ آسانی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے اسی لئے جب کامل انسانیت کی ابتداء ہوئی ناقص انسانوں کا بقیہ اس کے ساتھ تعاون کرنے سے قاصر تھا کیونکہ گو اُن میں عقل تھی مگر مادہ تعاون و تمدن ان میں مکمل نہ تھا۔پس یقیناً اُس وقت بہت بڑا فساد ہوا ہوگا جیسے اگر ایک سیدھا ہو اگھوڑا بے سدھے گھوڑے کے ساتھ جوت دیا جائے تو دونوں مل کر کام نہیں کر سکتے۔بے سدھا گھوڑا لاتیں مارے گا ، اُچھلے گا ، گو دے گا اور وہ کوشش کرے گا کہ نکل کر بھاگ جائے اسی طرح اُس وقت بعض لوگ متمدن ہو چکے تھے اور بعض کہتے تھے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اکٹھے رہیں اور قانون کی پابندی کریں۔لفظ آدم میں حکمت قرآن کریم نے جو پہلے کامل انسان کا نام آدم رکھا تو اس میں بھی ایک حکمت ہے عربی زبان میں آدم کا لفظ دو مادوں سے نکلا ہے، ایک مادہ اس کا ادیم ہے اور ادیم کے معنے سطح زمین کے ہیں اور دوسرا مادہ اُدمہ ہے اور اُذمہ کے