انوارالعلوم (جلد 15) — Page 258
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) دماغی ارتقاء اور دماغی قوتوں کے ظہور کا زمانہ آ گیا اور وہ سامع اور باصر وجود سے سمیع اور بصیر وجود بنا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا " اس دور میں جب که انسانی پیدائش نطفہ سے ہونے لگ گئی تھی اور وہ ڈگــــر وانــــــی بن گئے تھے ابھی ان میں انسانیت نہیں آئی تھی بلکہ حیوانیت ہی تھی کیونکہ گو نر و مادہ کی تمیز پیدا ہوگئی تھی مگر یہ تمیز حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے اس طرح گو اُس دور میں انسان باصر اور سامع تھا جیسا کہ حیوان بھی باصر اور سامع ہوتا ہے حیوان بھی دوسروں کو دیکھتا اور حیوان بھی آہٹ کوسُن لیتا ہے پس اس دور میں وہ ایک حیوان تھا مگر اس کے بعد دورِ رابع اس پر وہ آیا جب کہ دماغی اور ذہنی ارتقاء کی وجہ سے تحقیق اور تجسس کا مادہ اس میں پیدا ہو گیا اور وہ بصیر اور سمیع بن گیا۔دیکھتا تو ایک جانور بھی ہے مگر وہ باصر ہوتا ہے بصیر نہیں ہوتا۔بصیر وہ ہوتا ہے جو عقل سے کام لے اور گرید، تحقیق اور ایجاد کا مادہ اس میں موجود ہو اور یہ انسانی صفات ہی ہیں حیوانی نہیں۔پس چوتھا دور انسان پر وہ آیا جب کہ وہ سامع اور باصر وجود سے سمیع و بصیر بنا یعنی گرید ، تحقیق، ایجاد اور ترقی کا مادہ اس میں پیدا ہو گیا اور وہ حیوانی حالت سے ترقی کر کے حیوانِ ناطق بن گیا۔پرسب دوروں کی ابتدائی کڑیاں ہیں، درمیانی زمانوں کا ذکر خدا تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ قرآن کوئی سائنس کی کتاب نہیں وہ ضروری باتوں کا ذکر کر دیتا اور باقی امور کی دریافت کو انسانی عقل پر چھوڑ دیتا ہے پس ان چار دوروں کا یہ مطلب نہیں کہ انسان پر یہی چار دور آئے بلکہ یہ چار دوروں کی ابتدائی کڑیاں ہیں ان کے درمیان اور بھی بہت سی کڑیاں ہیں چنانچہ بعض درمیانی کڑیوں کا حال بھی قرآن کریم کی بعض اور آیات سے معلوم ہوتا ہے مثلاً فرما تا ہے۔واللهُ خَلَقَكُمْ مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا لا پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ والله ابكُم من الأرض نباتا کہ خدا نے تمہیں زمین میں سے نکالا ہے اور یہاں یہ فرمایا ہے کہ خدا نے تمہیں خشک مٹی میں سے پیدا کیا ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ پھر نطفہ سے پیدا کیا یہاں پھر درمیانی دوروں اور درمیانی دوروں کی مختلف کڑیوں کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔چنانچہ میں آگے چل کر ثابت کرونگا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واقعہ میں بعض دور چھوڑ دیئے ہیں۔غرض فرماتا ہے پھر ہم نے نطفہ بنایا اور تم نر و مادہ سے پیدا ہونے لگ گئے۔ثُمّ جَعَلَكُم ازواجا پھر ہم نے تم کو انسانِ کامل بنایا ، ایک ایسا انسان جو تمدنی صورت اختیار کر گیا اور باقاعدہ نظام میں منسلک ہو گیا۔