انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 256

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) پھونک ماری اور وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا ، مگر اسلام یہ نہیں کہتا۔وہ کہتا ہے کہ ہم نے تم کو کئی دوروں سے گزارا ہے اور خاص حکمت کو مد نظر رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ بنایا ہے یہ نہیں کہ تمہیں یکدم بنادیا ہو۔دور دوسری بات قرآن کریم ہے یہ انسانی پیدائش کا دور راؤل عدم سے شروع ہوا معلوم ہوتی ہے کہ نسانی پیدائش کا دور اول عدم تھا۔یہ اختلاف دنیا میں ہمیشہ سے چلا آیا ہے کہ دنیا کی ابتداء کس طرح ہوئی ؟ آریہ کہتے ہیں کہ مادہ جس سے تمام دنیا کی تخلیق ہوئی یہ ازلی ہے۔خدا نے صرف اتنا کیا ہے کہ مادہ اور روح کو جوڑ جاڑ دیا اور اس طرح انسان بن گیا ، مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ عقیدہ غلط ہے مادہ از لی نہیں بلکہ اسے خدا نے پیدا کیا ہے اور یہ کہ پہلے کچھ نہ تھا پھر خدا نے انسان کو پیدا کیا۔چنانچہ فرماتا ہے۔اولا یہ گر الانسان اَنَّا خَلَقْنَهُ مِن قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا کہ کیا انسان کو یہ بات معلوم نہیں کہ ہم نے جب اُسے پیدا کیا تو وہ اُس وقت کوئی ھے بھی نہیں تھی۔آجکل کی پیدائش اور قسم کی ہے آجکل نطفہ سے انسان پیدا ہوتا ہے اس آیت میں جس خلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ موجودہ دور سے بہت پہلے کی ہے۔گویا ابتدائی حالت انسان کی عدم تھی۔پھر خدا اسے عالم وجود میں لایا مگر یہ یا درکھنا چاہئے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عدم سے وجود پیدا ہوا بلکہ وہ کہتا ہے کہ پہلے عدم تھا پھر وجود ہوا۔یہ دھوکا زیادہ تر سے“ کے لفظ سے لگتا ہے کیونکہ ” سے“ کا لفظ اُردو زبان میں مادہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔کہتے ہیں لکڑی سے کھلونا بنایا یا لوہے سے زنجیر بنائی۔جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ پہلے لکڑی اور لو با موجود تھا جس سے اور چیزیں بنائی گئیں۔اس لئے جب مسلمانوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو عدم سے بنایا تو غیر مذاہب والے اعتراض کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ جب کچھ بھی نہیں تھا تو اس سے خدا نے انسان کو بنایا کس طرح؟ پس یا درکھنا چاہئے کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عدم سے انسان بنا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ پہلے عدم تھا پھر اس کا وجود ہو ا۔پس خدا نے عدم سے انسان کو نہیں بنایا بلکہ اپنے حکم کے ماتحت بنایا ہے مگر یہ کہ اُسے کس طرح بنایا ہے اس کا ذکر خدا تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ اس کے سمجھنے کی انسان میں قابلیت نہیں۔اگر انسان اس کو سمجھ سکتا تو وہ بھی انسان بنانے پر قادر ہوتا۔