انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxviii
انوار العلوم جلد ۱۵ (۲۱) میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں؟ تعارف کتب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ معرکة الآراء تقریر مؤرخہ ۱۹ / فروری ۱۹۴۰ء کو بوقت ساڑھے آٹھ بجے رات بمبئی ریڈیو پر ارشاد فرمائی جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئی۔حضور نے اپنی اِس مختصر مگر جامع و مانع تقریر کے آغاز میں ہی اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ:۔اسی دلیل سے جس کی بناء پر کسی اور چیز کو مانتا ہوں یعنی اس لئے کہ وہ سچا ہے۔۔۔۔او کسی چیز کا سچا ہونا اس پر ایمان لانے کی کافی دلیل ہے“۔اس اجمال کی قدرے وضاحت کرتے ہوئے حضور نے اسلام کی درج ذیل پانچ بنیادی خوبیاں بیان فرمائی ہیں :۔ا اسلام ہر وہ امر جس کو ماننا ضروری قرار دیتا ہے اُس پر ایمان لانے کیلئے دلیل بھی دیتا ہے۔اسلام صرف قصوں پر اپنے دعوی کی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ ہر شخص کو تجربہ کی دعوت دیتا ہے۔اسلام یہ سبق دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام اور کام میں اختلاف نہیں ہوتا۔اسلام کسی کے جذبات کو کچلتا نہیں بلکہ اُن کی صحیح راہنمائی کرتا ہے۔اسلام نہ صرف اپنے ماننے والوں سے بلکہ سب دنیا سے انصاف بلکہ محبت کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔(۲۲) موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک جنگ عظیم دوئم کے دوران حکومت برطانیہ کی طرف سے مؤرخہ ۲۶ رمئی بروزا تو ر ۱۹۴۰ء کے دن اس جنگ میں کامیابی کے لئے خصوصی دعا کرنے کی تحریک پر مبنی ایک اعلان کیا گیا۔چنانچہ اولی الامر کے حکم کے تحت حکومت وقت کے ساتھ ہمدردی اور اظہار پجہتی کرتے ہوئے قادیان میں بھی اُس روز خصوصی دعا کرنے کا اعلان ہوا اور یہ تقریب بیت اقصیٰ میں منعقد ہوئی۔اس دُعائیہ کی تقریب میں حضرت مصلح موعود بھی بنفس نفیس شامل ہوئے اور دعا سے قبل