انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 244

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ا۔گیارہویں میں نے دفتر دیکھے ہیں جہاں تمام ریکارڈ رکھے جاتے تھے اور ہر ضروری امر کو محفوظ رکھا جاتا تھا۔۱۲۔بارھویں میں نے کتب خانے دیکھے ہیں جہاں پرانی کتب کے تراجم ہوتے تھے اور پُرانے علوم کو محفوظ کیا جا تا تھا۔۱۳۔تیرھویں میں نے بازار دیکھے ہیں جہاں ہر چیز جس کی انسان کو ضرورت ہو فروخت ہوتی تی نے بازار میں ہر ۱۴۔چودھویں میں نے جنتر منتر دیکھا ہے جو ستاروں کی گردشیں معلوم کرتا تھا اور حساب سنین کو بتا تا تھا یا آئندہ کے تغیر پر روشنی ڈالتا تھا۔۱۵۔پندرھویں میں نے ایک وسیع سمندر بھی دیکھا ہے جس کا کنارہ تو ہے مگر اُس کا اندازہ لگانا انسانی فطرت کی طاقت سے بالا ہے اور جہاز میں بیٹھنے والا اُسے بے کنا رہی سمجھتا ہے جس کے راز دریافت کرنے اور اُس سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہزاروں بڑے بڑے جہاز جو بعض دفعہ ایک ایک گاؤں کے برابر ہوتے ہیں اور دو دو ہزار آدمی اس میں بیک وقت بیٹھ جاتے ہیں ہر وقت اُس میں چلتے رہتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک وسیع شہر میں ایک چیونٹی پھر رہی ہے۔۱۶۔سولہویں میں نے آثار قدیمہ کے محکموں کے وہ کمرے دیکھے ہیں جہاں قدیم چیزیں انہوں نے جمع کر رکھی ہیں، کہیں زمین کھود کر انہوں نے سکتے نکالے، کہیں زمین کھود کر انہوں نے پرانے کاغذات دستیاب کئے اور کہیں زمین کھود کر انہوں نے پرانے برتن نکالے اور اس طرح پرانے زمانہ کے تمدن اور تہذیب کا نقشہ انہوں نے ان چیزوں کے ذریعہ ہمارے سامنے رکھا ، یہ تمام چیزیں ایک ترتیب کے ساتھ رکھی تھیں۔پس میں نے آثار قدیمہ کی ان محنتوں کو بھی دیکھا اور پرانے آثار کو نکال کر دنیا کے سامنے پیش کرنے پر میرے دل نے ان کے کام پر آفرین کہی۔ایک نئی دنیا جو میری آنکھوں کے سامنے آئی یہ امور تفصیلا یا اجمالاً اُس وقت میرے ذہن میں آئے اور پھر میرے دل نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ تیری زندگی کا بہترین تجربہ ہے، کیا ان سے بڑھ کر ایسی ہی چیزیں تو نے نہیں دیکھیں ، کیا ان سے بڑھ کر مفید کام تو نے نہیں دیکھے اور کیا ان سے بڑھ کر