انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 221

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ کی تیاری کر رہے ہیں تا جماعت ان مفاسد کی اصلاح کرتی رہے جو ان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔مگر اس کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ روزانہ اخبارات کا مطالعہ کیا جائے اور ان میں سے ایسی خبریں نکال کر جلد سے جلد جماعت کے سامنے رکھی جائیں تا جماعت کو اپنے فرائض کا احساس رہے۔اگر الفضل والے ان ہدایات کے مطابق کام کریں اور محنت اور توجہ سے کام لیں تو نہ صرف اخبار دلچسپ ہو جائے گا بلکہ جماعت کے دوستوں میں بھی مسابقت کی روح پیدا ہو جائے اور وہ کوشش کرتے رہیں کہ دوسری قوموں سے بڑھ کر ر ہیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے اخبارات خریدیں اور کوشش کریں کہ ان کا مذاق علمی ہو جائے۔میں نے دیکھا ہے جو لوگ سلسلہ کے اخبارات نہیں خریدتے ان کے بچے احمدیت کی تعلیم سے بالکل ناواقف رہتے ہیں۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ اخبارات اور رسالے ضرور خرید میں بلکہ جو ان پڑھ ہیں وہ بھی لیں اور کسی پڑھے لکھے سے روزانہ تھوڑا تھوڑ ا سنتے رہا کریں تا کہ ان کی علمی ترقی ہو اور سلسلہ کے حالات سے وہ باخبر رہیں۔(الفضل ۱۶ نومبر ۱۹۶۰ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب دنیا میں آئے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں تو در حقیقت آپ کوئی نئی چیز نہیں لائے تھے۔یعنی جماعت احمدیہ کے جو بانی ہیں ان کا یہ دعویٰ نہیں کہ وہ کوئی نیا مذہب لائے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگ قرآن کو بھول چکے تھے اور قرآن بھولنے کی وجہ سے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دلوں میں سرد ہو چکی تھی ، اسلام کی خدمت کا ان کے دلوں میں کوئی جوش باقی نہیں رہا تھا اور ان کی حالتیں اتنی بدل گئی تھیں کہ وہ دین پر عمل کرنے سے گریز کرتے تھے۔تب اللہ تعالیٰ نے ان کے ان روحانی امراض کا علاج کرنے کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقوں اور فرمانبرداروں میں سے ایک شخص کو چنا اور اسے کہا کہ ہم تمہیں اسلام کی خدمت کیلئے کھڑا کرتے ہیں تم جاؤ اور لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل کرو۔یہ دعوی تھا جو آپ نے کیا اور یہ کام تھا جس کے لئے آپ مبعوث ہوئے۔جب آپ نے لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا اور کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے اور میرا نام خدا تعالیٰ نے مسیح موعود رکھا ہے تو لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ مسیح تو آسمان پر بیٹھا ہے اور وہی دوبارہ دنیا کی اصلاح کے لئے آئے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ مسلمانوں میں ابن مریم نازل ہوگا اور وہ تعلم عدل ہو گا اور اس ابن مریم سے وہی ابن مریم مراد ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت