انوارالعلوم (جلد 15) — Page 217
انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیادین نہیں لائے اگر پہلے کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی تو وہ اب جا کر ” الفضل‘ کا فائل کھول کر دیکھ لے۔ہمیشہ اسے یہی دکھائی دے گا کہ میرا ایک خطبہ لمبا ہے اور ایک چھوٹا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زودنویس تو میرا خطبہ صحیح طور پر لکھتا ہے اور ایک زود نو لیں ایسا ہے جو میرے الفاظ چھوڑتا چلا جاتا ہے اور کبھی مکمل خطبہ نہیں لکھتا۔دوست اگر چاہیں تو اب واپسی پر اپنے گھروں میں جا کر مقابلہ کر لیں ہمیشہ دو خطبوں میں انہیں نمایاں فرق نظر آئے گا اور باقاعدہ ایک خطبہ لمبا ہو گا اور ایک چھوٹا بلکہ بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے جس خطبہ پر میں نے دس منٹ کم خرچ کئے ہوتے ہیں وہ لمبا ہوتا ہے اور جس خطبہ پر میں نے زیادہ وقت صرف کیا ہوتا ہے وہ چھوٹا ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک خطبہ نویس ایسا ہے جسے لکھنے کی قابلیت نہیں۔ہر شخص زودنویس نہیں ہوسکتا ممکن ہے وہ ایڈیٹر ہومگر ز ودنو لیس نہ ہو۔مگر باوجود یکہ میں سالہا سال سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور ہر پانچویں چھٹے خطبہ پر مجھے اس قسم کے نوٹ لکھنے پڑتے ہیں کہ خطبہ یہاں سے حذف ہو گیا ہے، یا یہ بات اپنے پاس سے لکھ دی گئی ہے۔یہ باتیں ایسی ہیں کہ لازمی طور پر ان کا خریداری پر اثر پڑتا ہے۔میں نے اپنا تجربہ اس وقت دوستوں کو بتا دیا ہے ممکن ہے باہر کی جماعتوں کو اس کا علم نہ ہو لیکن اگر وہ چاہیں تو اب گزشتہ خطبے نکال کر دیکھ سکتے ہیں۔بغیر کسی فرق کے برابر ایک خطبہ لمبا ہوگا اور ایک چھوٹا۔ممکن ہے کوئی ایک خطبہ ایسا بھی نکل آئے جو اس مختصر نویسی کے زمانہ میں میں نے خاص طور پر بہت زیادہ لمباد یا ہوا اور وہ چھوٹا دکھائی نہ دے لیکن عام طور پر با قاعدہ میرا ایک خطبہ بڑا ہوتا ہے اور ایک چھوٹا۔یہی بے تو جہی باقی کاموں میں بھی ہے حالانکہ روزانہ اخبار تبھی چل سکتے ہیں جب وہ روزانہ ضرورتوں کو مہیا کریں۔اسی طرح مضامین کے متعلق میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ ان میں تنوع ہونا چاہئے اور سارا اخبار ہی دینی مضامین سے نہیں بھرنا چاہئے مگر اس طرف بھی کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔اگر ہم سارا دن نمازیں نہیں پڑھتے رہتے بلکہ اور بھی بیبیوں کام کرتے ہیں تو سارے اخبار میں دینی مضامین ہی اگر ہوں تو وہ کب لوگوں کیلئے دلچسپی کا موجب بن سکتے ہیں۔قرآن کریم کو بھی دیکھ لو اس میں صرف خدا اور اس کے رسولوں کا ہی ذکر نہیں بلکہ کہیں پانیوں کا ذکر ہے، کہیں بادلوں کا ذکر ہے، کہیں ہواؤں کا ذکر ہے، کہیں زمین کی حرکتوں کا ذکر ہے، کہیں حیوانات کا ذکر ہے، کہیں لڑائیوں کا ذکر ہے، کہیں سیاسیات کا ذکر ہے غرض مختلف قسم کے اذکار اس میں پائے جاتے ہیں مگر کیا الفضل قرآن سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے کہ اگر وہ علمی اور تاریخی اور اقتصادی اور صنعتی مضامین لکھے تو اس کی زبان صاف