انوارالعلوم (جلد 15) — Page 211
انوار العلوم جلد ۱۵ -( تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ وار یوں کو سمجھو ہے وہ کم خوردن پر زور دیتی ہے۔سادہ زندگی اختیار کرنے سے تم شور بہ پکاؤ گی تو تم آسانی سے دو اور غریبوں کو اپنے ساتھ کھانا کھلا سکو گی۔اس طرح تمہارا دل بھی خوش ہو جائے گا اور غریب کا دل خوش کرنے سے تو خدا تعالیٰ بھی خوش ہو جاتا ہے۔اسی طرح اگر تم کھانوں میں کمی کرو گی تو تمہاری دعوتیں وسیع ہو جائیں گی اور روپیہ بھی کم خرچ ہو گا۔جو روپیہ بچے گا تم اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کر سکو گی اور تم چندے بھی دے سکوگی اور دوسرے دینی مشاغل میں بھی وہ بچایا ہوا روپیہ صرف کر سکو گی۔اگر امیر عورتیں ایسی عادت ڈالیں تو وہ اپنے خاوندوں کو بھی سُدھار سکتی ہیں۔اور میں نے کئی ایسی مثالیں دیکھی ہیں جہاں عورتوں نے مردوں کو سدھارا۔اور انہوں نے اپنے خاوندوں کو بھی مخلص بنا دیا۔وہ چونکہ خود سادہ زندگی بسر کرتی تھیں اس لئے انہوں نے اپنے خاوندوں کو بھی ایسا بنا دیا۔پس تحریک جدید میں عورتوں کا بہت بڑا دخل ہے۔تم اقتصادی طور پر اپنے خاوندوں کی مدد کروسادہ خوراک اور سادہ کھانے کی عادت ڈالو۔جو عورت زیور سے خوش ہو جاتی ہے وہ بڑے کام نہیں کر سکتی۔پس سادہ کھانا کھاؤ ، سادہ کپڑے پہنو اور مساوات قائم کرو ورنہ خدا تعالیٰ خود تمہارے اندر مساوات قائم کر دے گا۔آج کل خدا تعالیٰ ایک نئی بادشاہت قائم کرنا چاہتا ہے۔نئی بادشاہت میں امیر غریب ہو جائیں گے اور غریب امیر۔جو مصیبت امیر اپنے اوپر عائد کریں گے اس کا کوئی دوسرا ذمہ وار نہ ہوگا بلکہ وہی خو ذمہ دار ہوں گے۔اگر تم دنیا میں سکھ حاصل کرنا چاہتی ہو اور خدا کو بھی خوش کرنا چاہتی ہو تو اپنے مالوں میں سے غریبوں کو بھی حصہ دو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گی تو وہ دن نزدیک ہیں کہ خدا خود اس کا انتظام کرے۔تم ان دنوں کا انتظار مت کرو بلکہ خود ہی ثواب اٹھاؤ۔میں امید کرتا ہوں کہ تم اپنی اولادوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ کروگی اور دنیا کیلئے اپنے آپ کو ایک نمونہ بناؤ گی۔( مصباح اخبار ۱، ۱۵ جنوری ۱۹۳۹ ء جلد نمبر ۱۳ نمبر ۲،۱) ابن ماجه کتاب المناسک باب الحج جهاد النساء بخاری کتاب الادب باب رحمة الولد و تقبيله و معانقته سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۹۲ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ