انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 203

انوارالعلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ واریوں کو سمجھو کیلئے خدا تعالیٰ نے ہاتھ اور پاؤں بنائے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جہاں بعض باتوں میں مرد اور عورت میں اتفاق رکھا ہے وہاں دونوں کے مختلف کاموں کے مدنظر اختلافات بھی رکھے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے مرد اور عورتیں اس فرق کو نہیں سمجھتے۔مرد تو اختلافات پر زور دیتے ہیں مگر عورتیں اتحاد واتفاق پر زور دیتی ہیں حالانکہ دونوں غلطی پر ہیں۔مرد شادی کے بعد عورت کو ایک حقیر جانور خیال کرتا ہے جو اس کے پاس آنے کے بعد اپنے تمام پہلے تعلقات کو بھول جائے اور وہ یہ امید کرتا ہے کہ وہ بالکل میرے ہی اندر جذب ہو جائے اور میرے ہی رشتہ داروں میں مل جائے۔اگر وہ اپنے رشتہ داروں کی خدمت یا ملاقات کرنا چاہے تو یہ بات مرد پر گراں گزرتی ہے اور بعض اوقات تو وہ دیدہ دلیری سے ایسی بات یا حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جو اس عورت کے خاندان کیلئے ذلت کا باعث ہوتی ہے۔وہ نہیں سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے اندر بھی ویسا ہی دل رکھا ہے جیسا کہ اس کے اپنے اندر۔ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت کی صحت خراب ہو جاتی ہے اور وہ بیچاری اپنے جذبات کو دبا دبا کر رکھتی ہے اور اس کے نتیجہ میں سل اور دق کا شکار ہو جاتی ہے اور میرے خیال میں آج کل ہسٹیر یا وغیرہ کی جو بیماریاں ہیں ان کا یہی سبب ہے۔پس مرد سمجھتا ہے کہ عورت میں جس ہی نہیں حالانکہ اس کے پہلو میں بھی ویسا ہی دل ہے جیسا کہ اس کے اپنے پہلو میں۔اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی کے اندر ایک محبت کرنے والا دل ہے تو کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ ماں جس نے اپنی بیٹی کو ایسی حالت میں پالا تھا جبکہ اگر وہ مرد اس کو دیکھتا تو ہرگز دیکھنا بھی پسند نہ کرتا ، اسے وہ چھوڑ دے؟ یہی حال آج کل کی ساسوں کا ہے وہ بھول جاتی ہیں اپنے زمانہ کو ، وہ بھول جاتی ہیں اُس سلوک کو جو اُن کے خاوندوں نے یا اُن کی ساسوں نے ان سے کیا تھا۔اسی طرح عورتیں اپنی بہوؤں کے جذبات اور طبعی تقاضوں کا خیال نہیں کرتیں اور بات بات پر لڑائی شروع کر دیتی ہیں حالانکہ یہ طریق غلط ہے۔دنیا میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مرد عورت کے جذبات کے متعلق اتنی بدخیالی کرتا ہے گویا عورت میں دل ہی نہیں یا عورت کے جذبات ہی نہیں۔لیکن عورتوں میں یہ بات بہت ہی کم دیکھی گئی ہے۔بعض عورتیں ہوتی ہیں جو زبردست ہوتی ہیں جو چاہتی ہیں کہ مرد سب کچھ بھول جائیں اور صرف انہی میں محو ہو جائیں مگر بہت کم۔رسول کریم ﷺ کو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کس قدر اپنے رشتہ داروں کے جذبات کا خیال