انوارالعلوم (جلد 15) — Page 192
انوار العلوم جلد ۱۵ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم بھی ضرورت ہوتی ہے چنانچہ فرمایا ولولا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ تفَسَدَتِ الْأَرْضُ ۳ کہ بے شک امن ایک قیمتی چیز ہے، بے شک اس کی تعلیم خدا نے انسانی دماغ میں رکھی ہے مگر کبھی انسان کا دماغ فطرت سے اتنا بعید ہو جاتا ہے اور انسانی عقیدے مرکز سے اتنے پرے ہٹ جاتے ہیں کہ وہ امن سے بالکل دور جا پڑتے ہیں اور نہ صرف امن سے دور جا پڑتے ہیں بلکہ حریت ضمیر کو بھی باطل کرنا چاہتے ہیں۔فرماتا ہے ایسی حالت میں امن کے قیام اور اس کو وسعت دینے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ جو شرارتی ہیں ان کا مقابلہ کیا جائے۔پس وہ جنگ امن مٹانے کیلئے نہیں بلکہ امن قائم کرنے کیلئے ہوگی۔جیسے اگر انسان کے جسم کا کوئی عضو سٹ ، گل جائے تو فیس خرچ کر کے بھی انسان ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ اس عضو کو کاٹ دو۔اسی طرح کبھی ایسے گروہ دنیا میں پیدا ہو جاتے ہیں جو سرطان اور کینسر کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور ضروری ہوتا ہے کہ ان کا آپریشن کیا جائے تا وہ باقی حصہ قوم کو بھی گندہ اور ناپاک نہ کر دیں۔پس فرمایا کو لا دَمُ اللهِ النَّاسَ بَعْضُهُمْ بَعْض اگر بعض کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بعض کی شرارتوں کو دُور نہ کرتا تو تفسدت بجائے امن قائم ہونے کے فساد بڑھ جاتا۔جس طرح سپاہیوں کو بعض دفعہ لاٹھی چارج کا حکم دیا جاتا ہے اسی طرح بعض دفعہ ہم بھی اپنے بندوں کو اجازت دیتے اور انہیں کہتے ہیں جاؤ اور لاٹھی چارج کرو اس لئے کہ تفسدت اگر لاٹھی چارج نہ کیا جاتا تو ساری دنیا کا امن برباد ہو جاتا۔ولعن الله ذُو فَضْلٍ عَلَى العلمين ١٢ یعنی اللہ صرف ایک قوم کو ہی امن نہیں دینا چاہتا بلکہ وہ ساری دنیا کو با امن دیکھنے کا خواہشمند ہے اور چونکہ ان لوگوں سے دنیا کا امن برباد ہوتا ہے، اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کا مقابلہ کیا جائے تا ساری دنیا میں امن قائم ہو۔بے شک اس کے نتیجہ میں خود ان لوگوں کا امن مٹ جائے گا مگر دنیا میں ہمیشہ موازنہ کیا جاتا ہے جب ایک بڑا فائدہ چھوٹے فائدے سے ٹکرا جائے تو اُس وقت بڑے فائدہ کو لے لیا جاتا ہے اور چھوٹے فائدہ کو قربان کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح کثیر حصہ دنیا کے امن کی خاطر ایک قلیل گروہ سے جنگ کی جاتی ہے اور اس وقت تک اُسے نہیں چھوڑا جا تاجب تک وہ خلاف امن حرکات سے باز نہ آ جائے۔یہ ایک مختصر ساڈھانچہ اُس تعلیم کا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام امن کے سلسلہ میں دی۔میں نے بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح دنیا میں امن قائم کیا اور کس طرح بدامنی کے اسباب کا آپ نے قلع قمع کیا۔پس آپ کا وجود دنیا کا سب سے بڑا محسن۔